قوالی سے حاصل شدہ رقم مسجد میں لگانے کا حکم:
Question
قوالی سے حاصل شدہ رقم کو مسجد میں خرچ کرنا کیسا ہے؟
Answer
قوالی سے حاصل شدہ رقم مکروہ بلکہ ناجائز ہے اس کو مسجد پر خرچ نہ کی جائے مسجد میں پاکیزہ رقم خرچ کیا کرے ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
مسجد خدا کا مقدس اور پاکیزہ گھر ہے اس کی تعمیر و درستگی میں حلال اور پاکیزہ مال استعمال کیا جائے، حرام کمائی مسجد میں استعمال کرنا منع ہے اور مکروہ ہے، حدیث شریف میں ہے: خدا تعالی پاکیزہ مال قبول فرماتے ہیں لہذا حرام اور مشتبہ مال سے مسجد بنانے کی شرعاً اجازت نہیں ۔ (فتاوی رحیمیہ ٦/۹۹)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اور جو خالص حرام کمائی کا روپیہ ہو اس کو اپنے ذاتی یا دینی کاموں میں خرچ کرنا درست نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ ۵/۱۳٦) ۔
خلاصہ یہ کہ قوالی سے حاصل شدہ پیسہ مسجد میں نہیں لگانا چاہیے ایسے اموال کو مسجد میں خرچ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/346
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-346