میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا حکم:
Question
کیا میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer
افضل اور بہتر یہ ہے کہ جس جگہ انتقال ہوا سی جگہ دفن کر دیا جائے، ہاں ایک دو میل منتقل کرنا جائز ہے، البتہ اس سے زیادہ مسافت پر منتقل کرنے کو فقہاء نے مکروہ لکھا ہے، کیوں کہ اس میں مقصدِ شریعت فوت ہو جاتا ہے کہ میت کی تجہیز و تکفین میں حتی الوسع عجلت مطلوب ہے اور منتقل کرنے میں قانونی کاروائی کی وجہ سے تاخیر ہوتی ہے اور میت کا ادب و احترام بھی برقرار نہیں رہتا ۔ ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
قوله يندب دفنه في جهة موته أي في مقابر أهل المكان الذي مات فيه أو قتل وإن نقل قدر ميل أو ميلين فلا بأس شرح المنية، قلت: ولذا صح أمره بدفن قتلى أحد في مضاجعهم مع أن مقبرة المدينة قريبة ولذا دفنت الصحابة الذين فتحوا دمشق عند أبوابها ولم يدفنوا كلهم في محل واحد
وقيده محمد بقدر ميل أو ميلين لأن مقابر البلد ربما بلغت هذه المسافة فيكره فيما زاد. (فتاوى الشامي: ۲/۲۳۹، سعيد).
مزید ملاحظہ ہو : (
مراقي الفلاح، ص ٦۱۳، والفتاوى الهندية: ۱/۱٦۷، وفتح القدير: ۲/۱۰۱، والفتاوى التاتارخانية: ۲/۱۷۵، والبحر الرائق: ۲/۱۹۵).
فتاوی رحیمیہ میں مرقوم ہے:
مستحب اور افضل طریقہ یہی ہے کہ انسان کا جہاں انتقال ہوا ہو وہیں اس کو دفن کیا جائے چاہے اس کا انتقال وطن میں ہوا ہو یا وطن سے باہر کسی اور جگہ، دفن کرنے سے قبل منتقل کرنے میں فقہاء کا اختلاف ہے، میل دو میل منتقل کرنا تو بالاتفاق جائز ہے، دو میل سے زیادہ منتقل کرنے کو اکثر فقہاء نے مکروہ لکھا ہے، اور صاحب نہر نے اسے بحوالہ عقد الفرائد ہو الظاہر (ظاہری روایت) کہا ہے، شامی نے اسے نقل کیا ہے، بعض فقہاء مادون السفر اور بعض مطلقاً جواز کے قائل ہیں، مگر افضل منتقل نہ کرنا ہے، بہ چند وجوہ:
۱ ۔ منتقل کرنے کی وجہ سے تجہیز و تکفین میں تاخیر ہوتی ہے، حالانکہ اس میں عجلت مطلوب ہے ۔
۲ ۔ گاہے میت کے بدن میں تغیر پیدا ہو جاتا ہے منتقل کرنا اپنے اختیار میں نہیں ہوتا، قانونی رکاوٹیں سامنے آتی ہیں، اور تاخیر ہو جاتی ہے ۔
۳ ۔ منتقل کرنے میں میت کی بے حرمتی کا بھی زیادہ امکان ہے، ضرورت سے زیادہ میت کو حرکت ہوتی ہے اور بسا اوقات لاش کو برف پر رکھا جاتا ہے جو بجائے خود میت کے لیے تکلیف کا سبب ہے اور میت کو تکلیف دینا ممنوع ہے
٤ ۔ چونکہ بلا ضرورتِ شرعی منتقل کرنا غیر ضروری بلکہ مکروہ ہے اس لیے منتقل کرنے کے اخراجات اور مصارف تجہیز و تکفین میں محسوب نہ ہوں گے الخ ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۳/٤۸۵، ط: دیوبند) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (احسن الفتاوی: ٤/۲۰۸، و آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٤/۳۱۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3470
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3470