دفن سے پہلے میت کا چہرہ دیکھنے کا حکم:
Question
بعض عورتوں کی عادت ہے کہ میت کے چہرہ کو دیکھتی ہیں اور علماء اور بزرگوں کا چہرہ دیکھنے کو ثواب سمجھتی ہیں، کیا شرعاً اس بات کی اجازت ہے یا نہیں؟
Answer
علماء نے لکھا ہے کہ مرنے کے بعد دفن کرنے سے پہلے میت کا چہرہ دیکھنا جائز اور درست ہے ہاں زندگی میں جس کا چہرہ دیکھنا ناجائز ہو جیسے میت غیر محرم عورت ہو تو مرنے کے بعد بھی اس کا چہرہ دیکھنا ناجائز ہوگا، لیکن آج کل ایک رسم بن گئی ہے اور باقاعدہ اس کی زیارت کرائی جاتی ہے اور ثواب سمجھا جاتا ہے پھر اس کی وجہ سے تدفین میں بھی تاخیر ہوتی ہے، بنا بریں یہ رسم قابل ترک ہے اور اس کو رواج نہیں دینا چاہیے ۔
بلکہ آج کل تو معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ ویڈیو کال کے ذریعہ میت کے چہرے کو دوسرے ملک میں مقیم رشتہ داروں اور اعزہ کو دکھا کر زیارت کرواتے ہیں؛ یہ سب باتیں میت کے ادب و احترام کے خلاف ہے اور قابل ترک ہیں ۔
میت کا چہرہ دیکھنا کوئی گناہ نہیں، بلا نیت ثواب ویسے زیارت درست ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت جابر رضی الله عنه کے والد کا انتقال ہوا تو وہ اپنے والد کا چہرہ دیکھتے اور روتے تھے، اسی طرح حضرت عثمان بن مظعون رضی الله عنه کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے ان کو بوسہ دیا، نیز ایک روایت میں ہے کہ جب نبی ﷺ کا انتقال ہوا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنه نے چہرۂ انور کی زیارت کی اور بوسہ دیا ۔ روایات ملاحظہ کیجیے:
بخاری شریف کی حدیث شریف میں ہے:
عن محمد بن المنكدر، قال: سمعت جابر بن عبد الله رضي الله عنه، قال: لما قتل أبي جعلت أكشف الثوب عن وجهه أبكي، وينهوني عنه، والنبي ﷺ لا ينهاني، فجعلت عمتي فاطمة تبكي، فقال النبي ﷺ: تبكين أو لا تبكين ما زالت الملائكة تظله بأجنحتها حتى رفعتموه. (صحيح البخاري: ۱/۱٦٦/۱۲٤٤، ط: فيصل).
سنن ابن ماجہ شریف کی روایت میں ہے:
عن عائشة رضي الله عنها قالت: قبل رسول الله ﷺ عثمان بن مظعون رضي الله عنه وهو ميت، فكأني أنظر إلى دموعه تسيل على خديه. (رواه ابن ماجه، ص ۱۰۵/۱٤۵٦، ط: قديمي).
مسند احمد میں روایت ہے:
عن حميد بن عبد الرحمن قال: توفي رسول الله ﷺ وأبو بكر في طائفة من المدينة قال: فجاء فكشف عن وجهه فقبله وقال: فداك أبي وأمي ما أطيبك حياً وميتاً، مات محمد ﷺ ورب الكعبة. (أخرجه الإمام أحمد في مسنده: ۱/۱۹۸/۱۸، ط: الرسالة).
مذکورہ بالا احادیث سے میت کا چہرہ دیکھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے ۔ نیز فتاوی ہندیہ میں بھی جواز مرقوم ہے:
ولا بأس بأن يرفع ستر الميت ليرى وجهه وإنما يكره ذلك بعد الدفن كذا في القنية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۱).
کفایت المفتی میں ہے: دفن سے پہلے منہ کھول کر دکھانا مباح ہے ۔
کفایت المفتی کی تعلیقات میں مذکور ہے: چونکہ اس میں کئی مفاسد پائے جاتے ہیں، اس لیے اس کا ترک کرنا ہی بہتر ہے مثلاً اس کو باعثِ ثواب سمجھنا، تصویر کشی کرنا، تدفین میں تاخیر کرنا وغیرہ ۔ (کفایت المفتی مع التعلیقات: ۵/٤۳۱، ط: جامعہ فاروقیہ) ۔
فتاوی فریدیہ میں مذکور ہے: مردہ کا چہرہ دیکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے،
كما في الهندية
(
فتاوی فریدیہ: ۳/۲۹۰) ۔
خیر الفتاوی میں مرقوم ہے: جسے زندگی میں دیکھنا جائز ہے، اُسے موت کے بعد بھی دیکھ سکتے ہیں ۔ (خیر الفتاوی: ۳/۲۱۷) ۔
ہاں فی زماننا رسم کی شکل اختیار کرنے کی وجہ سے بعض مفتی حضرات نے سداً للذریعہ بچنے کی ترغیب دی ہے ۔ اکابر کے چند فتاوی پیش خدمت ہیں: ملاحظہ ہو احسن الفتاوی میں مرقوم ہے:
سوال: میت کفنانے کے بعد اس کا منہ دکھانے کی رسم کا شرعاً کیا حکم ہے؟
الجواب: اس رسم میں مندرجہ ذیل مفاسد ہیں، اس لیے واجب الترک ہے:
(۱) بعض علاقوں میں میت کا منہ دیکھنے کو باعثِ اجر و ثواب سمجھا جاتا ہے، حالانکہ شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں، لہٰذا اس میں ثواب سمجھنا بدعت ہے، اور اگر ثواب نہ بھی سمجھے تو اس سے بدعت کی ترویج و تائید ہوتی ہے ۔
(۲) شرعی حکم یہ ہے کہ میت کو غسل دیتے وقت اور کفناتے وقت کم از کم آدمی ہوں اور وہ میت کے اقارب و احباب میں سے ہوں، تاکہ میت میں خدانخواستہ کوئی عیب یا تغیر پیدا ہو جائے تو اس کا افشا نہ ہو، منہ دکھانے کی رسم شریعت کے اس حکم و حکمت کے خلاف ہے ۔
(۳) اگر میت کوئی مشہور شخصیت ہے تو اس کی منہ دکھائی کی رسم میں کئی گھنٹے صرف کیے جاتے ہیں، حالانکہ میت کے دفن میں تاخیر جائز نہیں ۔
(٤) رونمائی کی رسم کا نتیجہ یہ ہے کہ میت کی تصویریں لے کر اخبارات میں شائع کی جاتی ہیں، جس میں تصویر کی لعنت و عذاب کے علاوہ میت کے چہرے میں تغیر کی اشاعت ہے جو حرام ہے ۔
آج کل یہ قبیح رسم خواص علماء و مشائخ میں بھی عام رائج ہو گئی ہے، اس لیے اس سے احتراز کی وصیت کرنا واجب ہے، (احسن الفتاوی: ٤/۲۱۹) ۔
فتاوی رحیمیہ میں مرقوم ہے:
سوال: ہمارے یہاں نمازِ جنازہ کے بعد حاضرین کو میت کا منہ دکھلایا جاتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟
الجواب: یہ رسم غیر ضروری اور مکروہ ہے کہ موجبِ تاخیر ہے حالانکہ تعجیل مامور بہ ہے، اسی لیے جنازہ لے جاتے وقت تیز چلنے کا حکم حدیث میں ہے:
أسرعوا بالجنازة،
شامی میں ہے:
قوله ويسرع بها بلا خبب، وحد التعجيل المسنون أن يسرع به بحيث لا يضطرب الميت على الجنازة للحديث أسرعوا بالجنازة. (شامي، مراقي الفلاح مع طحطاوي)
جب تاخیر کی وجہ سے میت کے لیے بعد نمازِ جنازہ اجتماعی دعا ممنوع ہے تو منہ دکھانے کے لیے اجتماع کیسے درست ہے؟ فتاوی سراجیہ میں ہے:
إذا فرغ من الصلاة لا يقوم بالدعاء (فتاوى سراجية، وخلاصة الفتاوى)
فقط واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۱/۵۳٦، دیوبند) ۔
اغلاط العوام میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
مسئلہ: بعض علاقہ میں میت کا منہ دیکھنا باعثِ ثواب سمجھا جاتا ہے شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں اس میں ثواب سمجھنا بدعت ہے ۔ (اغلاط العوام، ص ۲۱٤، ط: زمزم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3493
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3493