بحالتِ صوم آکسیجن (oxygen) لینے کا حکم:
Question
روزہ کی حالت میں مریض کو آکسیجن دینے سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟ جب کہ آکسیجن میں صرف ہوا ہوتی ہے، بھاپ یا رطوبت وغیرہ کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
آکسیجن انسانی زندگی کے بقا کے لیے جزء لا ینفک ہے، انسان ہر سانس میں آکسیجن لیتا ہے لیکن بعض مرتبہ دمہ کی بیماری والوں کے لیے یہ نا کافی ہو جاتا ہے تو مصنوعی آکسیجن (جو صاف ستھری ہوا ہے) دی جاتی ہے تاکہ زندگی بحال رہے اور دمہ کی تکلیف سے نجات ملے، اور صاف ستھری ہوا کا جسم میں جانا مفسدِ صوم نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
والذي ذكره المحققون أن معنى الفطر وصول ما فيه صلاح البدن إلى الجوف أعم من كونه غذاء أو دواء. (فتاوى الشامي: ۲/٤۱۰، سعيد).
علامہ ابوبکر کاسانی رحمه الله بدائع الصنائع میں فرماتے ہیں:
وما وصل إلى الجوف أو إلى الدماغ عن المخارق الأصلية كالأنف والأذن والدبر بأن يستعط أو احتقن أو أقطر في أذنه فوصل إلى الجوف أو إلى الدماغ فسد صومه، أما إذا وصل إلى الجوف فلا شك فيه لوجود الأكل من الصورة، وكذا إذا وصل إلى الدماغ لأنه له منفذ إلى الجوف فكان بمنزلة زاوية من زوايا الجوف. (بدائع الصنائع: ۲/۹۳، سعيد).
جدید فقہی مسائل میں مرقوم ہے: اگر آکسیجن کے ساتھ کوئی دوا نہ ہو تو روزہ فاسد نہیں ہونا چاہیے، کیوں کہ یہ سانس لینا ہے اور سانس کے ذریعہ ہوا لینا نہ مفسدِ صوم ہے اور نہ اس پر اکل و شرب کا اطلاق ہوتا ہے ۔ (۱/۱۸۸) ۔
کتاب المسائل میں مذکور ہے: روزہ میں اگر آکسیجن کے ذریعہ سانس لیا جائے تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، کیوں کہ آکسیجن محض ایک صاف ستھری ہوا ہے، اس کا بدن میں جانا مفسدِ صوم نہیں ۔ (کتاب المسائل: ۲/۱۵٤) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر آکسیجن ایسی ہے کہ اس میں ہوا کے ساتھ کچھ بھاپ اور رطونت خارج ہوتی ہے اور ناک میں داخل ہوتی ہے تو یہ مفسدِ صوم ہے، اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا اور اگر بلا رطوبت فقط صاف ستھری خالص ہوا خارج ہوتی ہے تو مفسدِ صوم نہیں ہے اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا ۔
مزید ملاحظہ ہو : (روزے کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا، ضمیمہ، ص: ۹، و علم تشریح الابدان: ۱۱۰، ۱۱۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3527
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3527