انڈواسکوپی کے ذریعہ جسم کے اندرونی حصہ کا معائنہ کرنے سے روزہ کا حکم:

7 min readFatwa Vol 9 #269Urdu

Question

روزہ کی حالت میں انڈواسکوپی یعنی آلہ کے ذریعہ اندرونی جسم کا معائنہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اس عمل سے روزہ فاسد ہوگا یا نہیں؟ اگر روزہ فاسد ہو تو کفارہ واجب ہوگا یا نہیں؟ بحالتِ اختیار اور بحالت اضطرار کرنے میں کوئی فرق ہو گا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ انڈواسکوپی یہ ایک قسم کا آلہ ہوتا ہے جس کے ذریعہ جسم کے کھوکھلے اعضاء یا جوفِ بدن مثلاً معدہ، کان، آنتیں وغیرہ کو جانچا جاتا ہے، یہ ایک ٹیوب نما آلہ ہوتا ہے جس کے ایک سرے پر عدسہ (Lens) لگا ہوا ہوتا ہے، اس ٹیوب کو جسم میں داخل کیا جا تا ہے اس میں روشنی پہنچانے کا بھی انتظام ہوتا ہے، دوسرے سرے پر دوسرے عدسہ (Eye Piece) کی مدد سے اندرونی اعضاء کا دیکھنا آسان ہو جاتا ہے،
یاد رہے اس میں جو ٹیوب نما آلہ داخل کیا جاتا ہے، اس پر عدسہ (یعنی فوٹو گرافی کے کیمرے کا وہ چھوٹا سا آئینہ جس میں عکس نظر آتا ہے) لگا ہوا ہوتا ہے اور اس عمل سے مقصود فقط ایکسرے ہوتا ہے اس پر دوائی وغیرہ لگی ہوئی نہیں ہوتی ۔ ماخوذ از (en.wikipedia.org/wiki/Endoscopy) ۔
چونکہ اس عمل میں آلہ پر کوئی دوائی وغیرہ نہیں ہوتی اور یہ آلہ ڈاکٹر کے ہاتھ میں ہوتا ہے یعنی ایک سرا باہر ہوتا ہے اور دوسرا سرا اندرونی معائنہ کے لئے داخل کیا جاتا ہے اور اس کو باہر نکالا جاتا ہے اندر نہیں رہتا لہٰذا روزہ فاسد نہ ہوگا ۔ جیسا کہ فقہاء نے تحریر فرمایا ہے کہ گوشت کی بوٹی کو دھاگا سے باندھ کر حلق میں لٹکا کر واپس نکالا جائے تو روزہ فاسد نہ ہوگا، جب تک کہ گوشت کا کچھ حصہ جدا ہو کر پیٹ میں نہ رہ جائے ۔ دلائل و شواہد ملاحظہ ہو :
البحر الرائق میں ہے:
ولو شد الطعام بخيط وأرسله في حلقه وطرف الخيط في يده لا يفسد الصوم إلا إذا انفصل. (البحر الرائق: ۲/۲۹۵، دار المعرفة).

فتاوی ہندیہ میں ہے:
ولو طعن برمح

وبقي جوفه فسد وإن بقي طرفه خارجاً لا يفسد. (الهندية: ۱/۲۰۲).

در مختار میں ہے:
ولو بقي النصل في جوفه فسد أو أدخل عوداً ونحوه في مقعدته وطرفه خارج وإن غيبه فسد وكذا لو ابتلع خشبة أو خيطا ولو فيه لقمة مربوطة إلا أن ينفصل منها شيء ومفاده أن استقرار الداخل في الجوف شرط للفساد. (الدر المختار: ۲/۳۹۷، دار الفكر).

فتاوی شامی میں ہے:

وحاصله أن الإفساد منوط بما إذا كان بفعله أو فيه صلاح بدنه ويشترط أيضاً استقراره داخل الجوف فيفسد بالخشبة إذا غيبها لوجود الفعل مع الاستقرار وإن لم يغيبها فلا لعدم الاستقرار. (فتاوى شامي: ۲/۳۹۷، دار الفكر).

فتاوی ہندیہ میں ہے:
ومن ابتلع لحماً مربوطاً على خيط ثم انتزعه من ساعة لا يفسد وإن تركه فسد. (الفتاوى الهندية: ۱/ ۲۰۲).
قرار مجمع الفقه الإسلامي حول المفطرات في مجال التداوي: قرار مجمع الفقه ذكر مسألة (إدخال المنظار أو اللبوب ونحوهما إلى الرحم) وهذا السياق يشعر بأن المراد إدخال ذلك عن طريق المهبل وعلى كل حال فإن التصريح بصورة تنظير الجنين التي ذكرتها موجود في نص القرار ولم أقف عليه لغيره. هذا مخرّج على مسألة إدخال الإصبع في الدبر

عند الحنفية إذا أدخل أصبع وبقي بعضه خارجاً فإنه لا يفطر. (رسالة في المفطرات الطبية العلاجية: ۱/۵۹).

مفتی انعام الحق صاحب قاسمی لکھتے ہیں: انڈو اسکوپی (Endoscopy)
انڈو اسکوپی کا معنی ہے" اندر دیکھنا" عام طور پر اس کا اطلاق طبّی وجوہات کی بنا پر انڈواسکوپ کے ذریعہ انسانی جسم کے اندر دیکھنے پر ہوتا ہے، انڈواسکوپ ایک آلہ ہے، جس کے ذریعہ جسم کے کھوکھلے اعضاء یا جوف بدن مثلاً معدہ، کان، آنتیں وغیرہ کو جانچا جاتا ہے ۔ یہ ایک ٹیوب نما آلہ ہے جس کے ایک سرے پر عدسہ (Lens) لگا ہوا ہوتا ہے، اس ٹیوب کو جسم میں داخل کیا جا تا ہے اس میں روشنی پہنچانے کا بھی انتظام ہوتا ہے، دوسرے سرے پر دوسرے عدسہ (Eye Piece) کی مدد سے اندرونی اعضاء کا دیکھنا آسان ہو جاتا ہے ۔ (ضمیمہ روزے کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا ص ۱٤، ط بیت العمار کراچی) ۔
عمدۃ الفقہ میں ہے:
اگر کسی نے گوشت کی بوٹی کو ڈورے میں باندھ کر نگلا پھر اسی وقت نکال لیا تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا لیکن اگر اس میں کچھ حصہ جدا ہو کر پیٹ میں رہ جائے یا ڈورے کو چھوڑ دے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا، اور اسی طرح اگر کسی لکڑی کو نگل گیا اور اس لکڑی کا سرا اس کے ہاتھ میں ہے اور پھر اس کو باہر نکال لیا تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا اور اگر کل لکڑی نگل گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ (عمدۃ الفقہ: ۳/۲۷۰، ط: زوار اکیڈمی) ۔
دوسری جگہ ہے:
یہ قاعدہ کلیہ اس وقت ہے جب کہ وہ چیز جو اندر داخل کی گئی ہے خشک ہو لیکن اگر وہ چیز پانی یا روغن وغیرہ سے تر کی تو خواہ اس کا ایک سرا باہر بھی رہے اس کا روزہ اس پانی یا روغن کے پہنچنے کی وجہ سے فاسد ہو جائے گا جب کہ اس کو داخل کرتے وقت روزہ یا د ہو ۔ (عمدۃ الفقہ: ۳/۳۰۹، ط: زوار اکیڈمی) ۔
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی لکھتے ہیں:
آج کل معدہ کے بعض امراض کی شناخت کے لئے معدہ تک منہ کے ذریعہ نلکی پہنچائی جاتی ہے جو بعض دفعہ گوشت کا ٹکڑا کتر کر اپنے ساتھ لاتی ہے اور اس پر تحقیق ہوتی ہے ایسی صورت میں اس شخص کا روزہ نہیں ٹوٹے گا اصل میں روزہ ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے کا مدار اس بات پر ہے کہ معدہ میں داخل ہو نے والی چیز اندر ٹھہر گئی ہے یا واپس آ گئی ہے؟ اگر ٹھہر گئی ہے تو روزہ ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۱۸٦، نعیمیہ دیوبند) ۔
مفتی سلمان منصور پوری لکھتے ہیں: اگر معدے وغیرہ کے ٹیسٹ کے لئے حلق یا ناک کے راستہ سے دور بین والی نلکی ڈالی گئی جس میں کوئی دوائی یا چکناہٹ شامل نہ تھی اور اس کا ایک سرا باہر تھا تو محض اس نلکی کے ڈالنے سے روزہ نہ ٹوٹے گا، لیکن اگر نلکی کے ساتھ کوئی اور مادہ بھی شامل ہو تو اس کے اندر داخل ہونے کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ (کتاب المسائل: ۲/۱۵۵، ط نعیمیہ دیوبند، و كذا فی المسائل المہمۃ فیما ابتلت بہ العامۃ: ۱/۱۰۷، ط اکل کوا) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.