حالتِ احرام میں ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #307Urdu

Question

کیا حالتِ احرام میں ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ اس میں کچھ خوشبو ہوتی ہے، اگر کسی نے استعمال کر لی تو کوئی جزا واجب ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

ٹوتھ پیسٹ میں دانتوں کی صفائی مقصود ہوتی ہے خوشبو مقصود نہیں ہوتی، نیز خوشبو قلیل اور مغلوب ہے اس وجہ سے دم یا صدقہ واجب اور لازم نہیں ہے ہاں کچھ صدقہ کر دینا بہتر ہے، لیکن اگر خوشبو غالب اور مقصود ہو تو اگر پورے منہ یا آدھے سے زائد منہ پر لگا دی تو دم، اور آدھے سے کم میں صدقہ واجب ہوگا ۔ بہتر یہ ہے کہ احرام کی حالت میں مسواک پر اکتفا کر لیا جائے ۔ بدائع الصنائع میں مرقوم ہے:

ولو كان الطيب في طعام طبخ وتغير، فلا شيء على المحرم في أكله، سواء كان يوجد ريحه أو لا لأن الطيب صار مستهلكاً في الطعام بالطبخ وإن كان لم يطبخ يكره إذا كان ريحه يوجد منه لا شيء عليه لأن الطعام غالب عليه فكان الطيب مغموراً مستهلكاً فيه وإن أكل عين الطيب غير مخلوط بالطعام فعليه الدم إذا كان كثيراً

وقد روي عن ابن عمر رضي الله عنه أنه كان يأكل الخشكنابخ الأصفر وهو محرم ويقول: لا بأس بالخبيص الأصفر للمحرم. (بدائع الصنائع: ۲/۱۹۱، سعيد).

فتاوی رحیمیہ میں مذکور ہے:
اگر منجن یا ٹوتھ پیسٹ جس میں لونگ، کافور، الائچی یا خوشبو دار چیزیں ڈالی گئی ہوں اور وہ پکی ہوئی نہ ہوں اور مقدار کے اعتبار سے خوشبو دار چیز مغلوب ہو (یعنی کم ہو) تو ایسا منجن احرام کی حالت میں استعمال کرنا مکروہ ہوگا مگر صدقہ واجب نہ ہوگا، اور اگر منجن یا ٹوتھ پیسٹ میں خوشبو دار چیز غالب ہو تو چونکہ منجن یا ٹوتھ پیسٹ پورے منہ یا اکثر حصہ میں لگ جائے گا لہٰذا دم واجب ہوگا، بہتر یہ ہے کہ احرام کی حالت میں مسواک ہی استعمال کرے ٹوتھ پیسٹ استعمال نہ کرے، اس سے سنت بھی ادا نہ ہو گی، اس لیے مسواک کو اختیار کرنا چاہیے ۔
غنیۃ الناسک میں ہے:
فلو أكل طيباً كثيراً وهو أن يلتصق بأكثر فمه يجب الدم وإن كان قليلاً بأن لم يلتصق بأكثر فمه فعليه الصدقة هذا إذا أكله كما هو من غير خلط أو طبخ فلو جعله في الطعام وطبخه فلا بأس بأكله لأنه خرج من حكم الطيب وصار طعاماً وكذلك كل ما غيرته النار من الطيب فلا بأس بأكله ولو كان ريح الطيب يوجد منه

وفي الفتح: فإن جعله في طعام قد طبخ كالزعفران والأفاويه من الزنجبيل والدار صيني يجعل في الطعام فلا شيء عليه

وإن لم يطبخ بل خلطه بما يؤكل بلا طبخ كالملح وغيره فإن كانت رائحته موجودة كره ولا شيء عليه إذا كان مغلوباً فإنه كالمستهلك أما إذا كان غالباً فهو كالزعفران الخالص فيجب الجزاء وإن لم تظهر رائحته، الخ. (غنية الناسك، ص ۱۳۲، باب الجنايات، مطلب في اكل الطيب وشربه).

معلم الحجاج میں ہے: مسئلہ: اگر بہت سی خوشبو کھائی یعنی اتنی کہ منہ کے اکثر حصہ میں لگ گئی تو دم واجب ہے، اور اگر تھوڑی کھائی یعنی منہ کے اکثر حصہ میں نہیں لگی تو صدقہ واجب ہے، یہ اس وقت ہے جب کہ خالص خوشبو کھائے اور اگر اس کو کسی کھانے میں ڈال کر پکایا تو کچھ واجب نہیں، اگر چہ خوشبو کی چیز غالب ہو، اور اگر پکا ہوا کھانا نہ ہو تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ خوشبو کی چیز غالب ہے تو دم واجب ہے اگر چہ خوشبو بھی نہ آتی ہو اور اگر مغلوب ہے تو دم یا صدقہ نہیں اگر چہ خوشبو آتی ہو لیکن مکروہ ہے ۔ (معلم الحجاج، ۲٤٦، ۲٤۷، خوشبو اور تیل استعمال کرنا ۔ فقط واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ (ماخوذ از فتاوی رحیمیہ: ٤/۲۰۵، ط: مکتبۃ الاحسان، دیوبند) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.