حدیث میں نکاح کو نصف الایمان بتایا ہے، اس حدیث کی تحقیق:

2 min readFatwa Vol 9 #321Urdu

Question

کسی حدیث میں یہ وارد ہوا ہے کہ نکاح نصف الایمان ہے، یا اس کے ہم معنی کوئی روایت موجود ہے؟ اگر ہے تو اس کا کیا درجہ ہے؟ بینوا بالدلیل ۔

Answer

امام طبرانی رحمه الله نے اپنی کتاب
"المعجم الأوسط"
میں ایک روایت نقل فرمائی ہے جس کا مفہوم یہ ہے: جس نے نکاح کیا اس نے نصفِ ایمان کو مکمل کر لیا، اب نصفِ ثانی کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرے ۔ لیکن یہ روایت ضعیف ہے ۔ روایت کے الفاظ ملاحظہ ہو :

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ:" من تزوج فقد استكمل نصف الإيمان فليتق الله في النصف الباقي ". (رواه الطبراني في الأوسط: ۷/۳۳۲/ ۷٦٤۷، ط: القاهرة).
قال الهيثمي في المجمع: رواه الطبراني في الأوسط بإسنادين وفيهما يزيد الرقاشي وجابر الجعفي وكلاهما ضعيف وقد وثقا. (مجمع الزوائد: ٤/٤٦۳، دار الفكر).

امام طبرانی نے دو سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے لیکن دونوں سندیں ضعیف ہیں ؛ ایک میں یزید رقاشی اور دوسری میں جابر جعفی ضعیف راوی ہیں ۔
اس روایت کے ہم معنی دوسری روایت مسندِ ابی یعلی میں مذکور ہے ۔ ملاحظہ ہو :

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال: من تزوج فقد أعطي نصف العبادة. (رواه أبو يعلي في مسنده، رقم: ٤۳٤۹).
وقال الهيثمي في المجمع: رواه أبو يعلى وفيه: عبد الرحيم بن زيد العمي وهو متروك. (مجمع الزوائد: ٤/٤٦۳، دار الفكر).

خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں احادیث ضعیف ہیں، اور نصفِ ایمان کا مطلب یہ ہے کہ شہوت کی دو قسمیں ہیں: ۱) شہوتِ بطن ؛ کھانا پینا ۔ ۲) شہوتِ فرج، اور نکاح شہوتِ فرج کو شریعت کے موافق پورا کرنا ہے، اس لیے یہ نصف الایمان بن گیا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.