زوال اور فیئ الزوال معلوم کرنے کے لیے دائرۂ ہندیہ کا استعمال:

5 min readFatwa Vol 2 #9Urdu

Question

دائرہ ہندیہ کیا چیز ہے اور کیا کام آتا ہے؟

Answer

دائرہ ہندیہ مندرجہ ذیل نقشہ میں ملاحظہ ہو :
نقشۂ دائرۂ ہندیہ:
یہ دائرہ ہندیہ کا نقشہ ہے جو زوال اور فیئ الزوال معلوم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے استعمال کا طریقہ شرح وقایہ میں مذکور ہے ۔ ملاحظہ ہو :

وللظهر من زوالها إلى بلوغ ظل كل شيء مثليه سوى فيء الزوال. لا بد ههنا من معرفة وقت الزوال. وطريقه ان تسوى الأرض بحيث لا يكون بعض جوانبها مرتفعاً وبعضها منخفضاً إما بصب الماء أو ببعض موازين المقنين وترسم عليها دائرة تسمى الدائرة الهندية، وينصب في مركزها مقياس قائم بان يكون بعد رأسه عن ثلث نقط من محيط الدائرة متساوياً ولتكن قائمته بمقدار ربع قطر الدائرة فرأس ظله في أوائل النهار خارج الدائرة لكن الظل ينقص إلى أن يدخل في الدائرة فتضع علامة على مدخل الظل من محيط الدائرة، ولا شك أن الظل ينقص إلى حد ما ثم يزيد إلى أن ينتهي إلى محيط الدائرة ثم يخرج منها، وذلك بعد نصف النهار فتضع علامة على مخرج الظل فتنصف القوس التي هي ما بين مدخل الظل ومخرجه وترسم خطاً مستقيماً من منتصف القوس إلى مركز الدائرة مخرجاً إلى الطرف الآخر من المحيط، فهذا الخط هو خط نصف النهار، فإذا كان ظل المقياس على هذا الخط فهو نصف النهار، والظل الذي في هذا الوقت هو فيء الزوال، فإذا زال الظل من هذا الخط فهو وقت الزوال، فذلك أول وقت الظهر. (شرح الوقاية مع الحاشية: ۱/۱۲۸. وحاشية المختصر القدوري: ۲٦: ٦ سعيد)

ترجمہ: اور وقتِ ظہر کی ابتداء زوال سے ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہونے تک سایۂ اصلی کو چھوڑ کر، یہاں وقتِ زوال کو بھی جاننا ضروری ہے، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ زمین ہموار کر دی جائے اس طور پر کہ زمین کا بعض حصہ دوسرے بعض حصہ سے اونچا نیچا نہ رہے یا پانی بہا کر ٹھیک کر دی جائے یا سائنسدانوں کے اوزار کے ذریعہ سے، پھر اس ہموار زمین پر ایک دائرہ یعنی گول حلقہ بنالے، اور اس دائرہ کو دائرۂ ہندیہ سے موسوم کیا جاتا ہے، پھر مرکزِ دائرہ میں مقیاس (لکڑی یا تار) عموداً اس طور پر گاڑ دیں کہ اس کے سرے کی دوری ہر طرف سے برابر ہو (یعنی مقیاس اور زمین کے درمیان چاروں طرف زاویہ قائمہ پیدا ہو جائے ۔ اگر مقیاس ترچھا ہو تو یہ عمل صحیح نہیں، پیمانۂ پیمائش یا دھاگے کے ذریعہ یہ معلوم کر لیں کہ مقیاس کا سِرا شمالاً و جنوباً، شرقاً و غرباً دائرے سے برابر فاصلہ پر ہے یا نہیں ۔ اگر ہے تو یہ عموداً کھڑا ہے ورنہ ترچھا ہے) نیز مقیاس دائرے کے چوتھائی حصہ کے برابر ہو (یعنی اگر پورا دائرہ چار ہاتھ ہو تو مقیاس ایک ہاتھ کے بقدر ہو) پس اس مقیاس کے سایہ کا سرا دن کے ابتدائی حصہ میں دائرۂ ہندیہ سے خارج ہوگا لیکن سایہ کم ہوتا چلا جائے گا یہاں تک کہ مقیاس کا سایہ مغرب کی جانب سے دائرہ میں داخل ہو جائے گا پس اس جگہ ایک علامت لگادی جائے ۔ (یہ نصف النہار سے پہلے ہوگا) اور اس میں کوئی شک نہیں کہ سایہ برابر کم ہوگا ایک حد تک، پھر جانبِ مشرق میں بڑھنا شروع ہوگا یہاں تک کہ محیط دائرہ تک پہنچ کر دائرہ سے باہر نکل جائے گا، اور یہ نصف کے بعد النہار کے بعد ہوگا، پس نکلنے کی جگہ پر بھی علامت لگادی جائے، پھر مدخل الظل اور مخرج الظل کے درمیان قوس کے دو حصے کر دیے جائیں اور نصفِ قوس سے ایک سیدھا خط کھینچا جائے، یہ خط مرکز سے گزرتا ہوا محیط دائرہ پر منتہی ہوگا پس یہ خط خط نصف النہار کہلاتا ہے اور جب مقیاس کا سایہ خط نصف النہار پر ہوگا وہ نصف النہار ہے، (یعنی استوا شمس) اور جو سایہ اس وقت ہوگا وہ سایۂ اصلی ہے، اور جیسے ہی سایہ اس خط نصف النہار سے جانبِ مشرق میں رخ کرے گا وہ زوال کہلائے گا پس اسی سے وقتِ ظہر کی ابتداء ہو گی ۔ (عملی طریقہ نقشہ میں ملاحظہ فرمائیں)
قواعد الفقه میں ہے:

الدائرة الهندية لمعرفة فيء الزوال في كل بلدة صفتها في شرح الوقاية فليراجع. (قواعد الفقه: ص ۲۸۷).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.