شوہر کا بیوی کو صحبت پر مجبور کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #341Urdu

Question

کیا شوہر بیوی کو جماع پر مجبور کر سکتا ہے؟ مثلاً: بیوی غم زدہ ہے یا کوئی چیز پیش آئی جس کی وجہ سے ابھی تیار نہیں ہے ۔ نیز ان احادیث کا کیا مطلب ہے جن میں بلانے پر نہ جائے تو لعنت آئی ہے، کیا یہ احادیث صحیح ہیں یا ضعیف؟ بینوا بالدلیل ۔

Answer

عام حالات میں بیوی اپنے شوہر کے تقاضے کو پورا کرنے سے نہیں روک سکتی، الا یہ کہ کوئی طبعی یا شرعی عذر ہو تو کوئی حرج نہیں ہے، احادیث کا یہی مطلب ہے کہ بلا عذر انکار کر دے تو موجبِ لعنت ہے ورنہ نہیں ۔ اور احادیث اس بارے میں صحیح اور قابل احتجاج ہیں ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان عليها لعنتها الملائكة حتى تصبح، تابعه شعبة وأبو حمزة وابن داود وأبو معاوية عن أعمش. (رقم ۳۲۳۷، باب ذكر الملائكة).
وفي رواية له عنه عن النبي ﷺ قال: إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت أن تجيء لعنتها الملائكة حتى تصبح. (رقم: ۵۱۹۳، باب إذا باتت المرأة مهاجرة فراش زوجها).

مرقاۃ میں ہے:
فأبت أي امتنعت من غير عذر شرعي. (مرقاة المفاتيح: ۱۰/۱۸۵، باب عشرة النساء)

اگر بیوی کو تکلیف اور ضرر ہو تو شوہر کو اس کا خیال کرنا چاہیے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی الشامی میں ہے:

ولو تضررت من كثرة جماعه لم تجز الزيادة على قدر طاقتها. وقال في رد المحتار: فعلم من هذا كله أنه لا يحل له وطؤها بما يؤدي إلى إضرارها فيقتصر على ما تطيق منه عدداً بنظر القاضي أو إخبار النساء وإن لم يعلم بذلك فبقولها. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/ ٤، ۲۰۳، سعيد). وكذا في النهر الفائق: ۲/۲۹٤، وحاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۸۹، وفتح القدير: ۷/۲۹۲، دار الفكر).

کفایت المفتی میں مرقوم ہے:
اگر چہ خاوند کے لیے بھی مناسب ہے کہ زوجہ کی صحت اور موسم کی شدت اور غسل کے وقت کا لحاظ رکھے، تاہم زوجہ کا انکار بغیر کسی سخت مجبوری کے جائز نہیں حدیث شریف میں آیا ہے جو عورت خاوند کی ناراضگی میں رات گزارے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں ۔ (کفایت المفتی: ۱۲/٤۰۷، ط: جامعہ فاروقیہ) ۔
قاموس الفقہ میں مذکور ہے:
عورت مجبور نہ ہو اور مرد مباشرت کا مطالبہ کرے، تو اس کے لیے تعمیل حکم ضروری ہے، اس میں بھی اختلاف نہیں کہ تصحیح نیت کے ساتھ مرد عورت سے ہم بستر ہو تو باعث ثواب ہے کہ آپ ﷺ نے اس کو صدقہ قرار دیا ہے:
وفي مباضعتك أهلك صدقة.
(قاموس الفقہ: ۳/۱۱۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.