طلاقِ ثلاثہ کے بعد بچے ثابت النسب نہیں:
Question
ایک شخص نے بیوی کو تین طلاقیں دیں، پھر غفلت کی وجہ سے جماع کرتا رہا اور بچے بھی ہوئے تو اب بچے ثابت النسب ہیں یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر اس کو حرام جانتے ہوئے جماع کرتا رہا تو یہ زنا کے حکم میں ہے اور بچے ثابت النسب نہیں ہوں گے۔
۲۔ اگر اس نے اپنے گمان میں حلال جان کر جماع کیا تھا تو یہ شبہہ فی الفعل ہوا اور اس صورت میں بھی نسب ثابت نہ ہوگا۔
۳۔ اگر اس شخص نے کسی مفتی سے فتوی پوچھ کر اس پر عمل کیا تو یہ مقبول شبہہ ہے اور بچے ثابت النسب ہیں۔ ملاحظہ ہو الدر المختار میں ہے:
وإذا وطئت المعتدة بشبهة، قوله بشبهة
ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالماً بحرمتها لا تجب عدة أخرى لأنه زنا. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۵۱۸، سعيد). (وكذا في: ۳/۵۲۳، سعيد).
تبيين الحقائق
میں مذکور ہے:
ولشبهة الفعل إن ظن حله كمعتدة الثلاث
أي يسقط الحد لأجل الشبهة في الفعل إن ظن أن وطئها حلال له ويسمي هذا النوع من الشبهة شبهة الفعل
والنسب يثبت في الأولي فقط، أي يثبت النسب إن ادعاه في الشبهة الأولي وهي شبهة في المحل ولا يثبت في النوع الثاني وهو الشبهة في الفعل. (تبيين الحقائق: ۳/۱۷۷، ط: إمداديه).
قال في فتح القدير: ونص في التبيين أن المبتوتة بالثلاث إذا وطئها الزوج بشبهة كانت شبهة الفعل وفيها لا يثبت النسب وإن ادعاه نص عليه في كتاب الحدود. (فتح القدير: ٤/۳۵۲، دار الفكر).
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مذکور ہے:
تین طلاق کے بعد اگر تعلقات قائم رکھے تو اس دوران پیدا ہونے والی اولاد کی کیا حیثیت ہو گی؟
جو اولاد اس عرصے میں پیدا ہوئی اس کا نسب صحیح نہیں، اس کی حیثیت ناجائز اولاد کی سی ہے، ان کو چاہیے کہ فوراً علیحدگی اختیار کر لیں اور اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی معافی مانگیں۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٦/٤۷٦)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3629
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3629