حرمین شریفین میں عصر کی نماز مثل ثانی میں پڑھنے کا حکم:
Question
مسلکِ احناف کے مطابق عصر کی نماز مثلِ ثانی میں پڑھنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟ جب کہ یہ مسئلہ حرمین شریفین میں بکثرت پیش آتا ہے ۔
Answer
مسلکِ احناف میں قولِ مختار یہی ہے کہ وقتِ عصر مثلین سے شروع ہوتا ہے ۔ پس عام حالات میں مفتی بہ قول پر عمل کرنا چاہیے احتیاط اسی میں ہے ۔ البتہ دوسرا قول یہ بھی ہے کہ وقت عصر مثل اول کے بعد شروع ہو جاتا ہے لہذا کوئی معذور ہو یا مسافر ہویا کسی شافعی المسلک امام کے پیچھے عصر کی نماز پڑھنے کا اتفاق ہو جائے تو مثل ثانی میں عصر کی نماز پڑھنے کی گنجائش ہے ۔ خصوصاً حرمین شریفین میں تو جماعت کے ساتھ ہی نماز پڑھنا چاہیے مسجد اور جماعت کی فضیلت تر ک نہیں کرنا چاہیے یہی افضل ہے ۔
فیض الباری میں ہے:
فتحصل أنه صلى الظهر تارة في المثل وهو وقتها المختص وتارة في المثل الثاني وهو الوقت الصالح لها وكذلك صلي العصر تارة بعد المثل الأول وهو وقت صالح لها أيضاً وصلاها تارة بعد المثل الثاني قبل نهاية المثل الثالث وهو الوقت المختص بها مع إبقاء الفاصلة بين الصلاتين في اليومين، وهذا عين مذهبنا، فلله الحمد أولاً وآخراً. (فيض الباري: ۲/۹۹، كتاب مواقيت الصلاة)
فتح القدیر میں ہے:
اعلم أن الروايات عن أبي حنيفة رحمه الله اختلفت في آخر وقت الظهر، روى محمد رحمه الله عنه إذا صار ظل كل شيء مثليه سوى فيء الزوال خرج وقت الظهر ودخل وقت العصر وهو الذي عليه أبو حنيفة رحمه الله، وروي حسن بن زياد رحمه الله عنه إذا صار ظل كل شيء مثله سوى فيء الزوال خرج وقت الظهر ودخل وقت العصر وبه أخذ أبو يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله وزفر رحمه الله والشافعي رحمه الله. (فتح القدير: ۱/۲۱۹، دار الفكر. وكذا في فتاوى اللكنوي: ص ۱۹٤. ۱۹۸، بيروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
قالوا الاحتياط أن يصلي الظهر قبل صيرورة الظل مثله ويصلي العصر حين يصير مثليه ليكون الصلاتان في وقتهما بيقين. (الفتاوى الهندية: ۱/٥۱)
فتاوی حقانیہ میں ہے:
عصر کی نماز مثلین کے بعد پڑھنا افضل ہے اگر چہ اس میں جماعت فوت ہو جانے کا خدشہ ہو مگر یہ حکم دیگر عام مقامات کے لیے ہے، حرمین شریفین کی حرمت اور فضیلت کی وجہ سے جماعت میں شریک ہونا چاہیے اور مثلین تک تاخیر کرنا ضروری نہیں، بلکہ حرمین شریفین میں با جماعت نماز پڑھنا افضل ہے ۔ (فتاوی حقانیہ: ۳/٤۲، باب المواقیت ۔ نیز ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ: ۵/۳٤۱، باب المواقیت ۔ جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/364
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-364