باپ بیٹوں کی مشترکہ تجارت میں نفع کا حکم:
Question
لوگوں میں مشہور ہے کہ اگر بھائی بہن والد کے ساتھ رہتے ہیں، اور ایک بھائی ان میں سے کسی فیکٹری میں بہت اہم ملازمت کرتا ہے، پھر علیحدگی کی نوبت آ جائے تو اس ملازم بھائی کے پورے مال اور دوسری خریدی ہوئی اشیاء میں دوسرے بھائی بہن بھی شریک ہیں، کیا یہ درست ہے یا نہیں؟ یا ملازم بھائی اپنے مال کا مالک ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ باپ بیٹے ساتھ رہتے ہیں اور ایک بیٹا ملازمت میں خوب کماتا ہے تو یہ کمائی اس کی اپنی ہے اس میں دوسرا کوئی شریک نہیں ہے کیوں کہ وہ خود ملازمت کرتا ہے نہ کہ دوسرے بھائی بہن ۔
قرآن، حدیث اور کتبِ فقہ میں بہت سارے ایسے دلائل موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اجرت اجیر اور ملازم کا خاص حصہ ہے دوسرا کوئی اس میں شریک نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو قرآنِ کریم میں ہے:
فإن أرضعن لكم فآتوهن أجورهن. [الطلاق: ٦]،
معلوم ہوا کہ اجرت اجیر کی ملکیت ہے ۔
حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"
أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه ". (رواه ابن ماجه، رقم: ۹۱۳).
اس سے معلوم ہوا کہ اجیر ہی مستحق اجرت ہے نہ کہ اس کے گھر والے ۔
دوسری حدیث میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله ﷺ: قال الله عزوجل: ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة رجل أعطي بي ثم غدر ورجل باع حراً فأكل ثمنه ورجل استأجر أجيراً فاستوفي منه ولم يعط أجره. (رواه البخاري، رقم: ۲۲۲۷).
اس روایت سے بھی معلوم ہوا کہ اجیر جو مستحق اجر ہے اس کو اس کی اجرت نہ دینا اللہ تعالی سے خصومت و لڑائی کے مترادف ہے ۔
فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے:
ثم الأجرة تستحق بإحدى معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۱۳).
بدائع الصنائع میں بشرط التعجیل کے تحت مذکور ہے:
لأنهما لما شرطا تعجيل البدل لزم اعتبار شرطهما لقوله عليه الصلاة والسلام: المسلمون عند شروطهم وملك الآجر البدل حتى تجوز له هبته والتصدق به والإبراء عنه. (بدائع الصنائع: ٤/۲۰۳، سعيد).
ایک اشکال اور اس کا جواب:
یہاں پر ایک اشکال واردہوتا ہے کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ:
أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما مال فالكسب كله للأب، إذا كان الابن في عيال الأب لكونه معيناً له ألا تري أنه لو غرس شجرة تكون للأب وكذا الحكم في الزوجين إذا لم يكن لهما شيء ثم اجتمع بسعيهما أموال كثيرة فهي للزوج وتكون المرأة معينة له إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها كذا في القنية. (الفتاوى الهندية: ۲/۳۲۹).
ان عبارات سے بعض حضرات یہ استدلال کرتے ہیں کہ جب باپ بیٹا ساتھ کام کرتے ہیں تو سب کچھ باپ کاہے ۔ اس کا کیا جواب ہے؟
جواب: اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ کام یا دکان یا فیکٹری باپ کی ہو اور بیٹا بطورِ تابع اور معاون ان کے ساتھ کام کرتا ہو یا بیوی شوہر کی دکان میں بطورِ معاون کام کرتی ہو تو سب کچھ باپ اور شوہر کاہے لیکن اگر بیٹے کا اپنا کام یا ملازمت ہے اور اس کام میں وہ مستقل ہے تو وہ سب کچھ بیٹے کاہے اس لیے فقہی عبارت میں :"
إذا كان الابن في عيال الأب لكونه معيناً"
کے الفاظ آئے ہیں ۔
ہاں ایک صورت اور سمجھ لیں کہ باپ بیٹے سب الگ الگ کام کرتے ہیں اور سب اپنی کمائی یا اس کا کچھ حصہ باپ کے حوالے کرتے ہیں یا سب بھائی کام کرتے ہیں اور اپنی کمائی یا اس کا کچھ حصہ گھر پر خرچہ کے لیے مشترکہ رکھتے ہیں تو وہ کمائی پہلی صورت میں باپ کی ہے اور دوسری صورت میں بھائیوں کی مشترکہ ہے ۔
قال في تنقيح الفتاوى الحامدية: إخوة خمسة سعيهم وكسبهم واحد وعائلتهم واحدة حصلوا بسعيهم وكسبهم أموالاً فهل تكون الأموال المذكورة مشتركة بينهم أخماساً؟ الجواب: ما حصله: الإخوة الخمسة بسعيهم وكسبهم يكون بينهم أخماساً. (تنقيح الفتاوى الحامدية: ۲/۱۲۳).
قال في تنقيح الفتاوى الحامدية: إخوة خمسة سعيهم وكسبهم واحد وعائلتهم واحدة حصلوا بسعيهم وكسبهم أموالاً فهل تكون الأموال المذكورة مشتركة بينهم أخماساً؟ الجواب: ما حصله: الإخوة الخمسة بسعيهم وكسبهم يكون بينهم أخماساً. (تنقيح الفتاوى الحامدية: ۲/۱۲۳).
وقال في رد المحتار: وفي الخانية: زوج بنيه الخمسة في داره وكلهم في عياله واختلفوا في المتاع فهو للأب. (فتاوى الشامي: ٤/۳۲۵، سعيد).
خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں بیٹا اپنی کمائی کا مالک اور خود مختار ہے، ہاں جتنی مقدار باپ کے حوالے کر دے اور دے دے وہ والد کی ہو گی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3655
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3655