سیڈیوں کے حقوق الطبع محفوظ کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #391Urdu

Question

کیا سیڈیوں کے حقوق الطبع محفوظ کرنے سے محفوظ ہو جائیں گے یا نہیں؟ نیز اگر کمپنی والوں کی طرف سے اس کے نقل کرنے کی اجازت نہ ہو تو اسے اپنے استعمال یا بیچنے کے لیے نقل کرنے کا کیا حکم ہے؟

Answer

حق ایجاد ایسا حق ہے جس کو شریعت نے تسلیم کیا ہے، کہ جس شخص نے کوئی چیز ایجاد کی تو اس کو محفوظ کرنے اور بیچنے یا اس پر منافع لینے کا وہ حقدار ہے، اگر ہر کس و نا کس کو اس کے نقل کرنے، بیچنے اور منافع لینے کی اجازت دی جائے تو محنت و مشقت اُٹھانے والا اپنی محنت کے پھل سے محروم ہو جائے گا، ہاں کوئی شخص اپنے استعمال کے لیے نقل کرنا چاہے تو اس کی گنجائش ہے، جب کہ بیچنے اور منافع حاصل کرنے کا ارادہ نہ ہو ۔
حدیث شریف میں ہے:"
من سبق إلى ما لم يسبقه إليه مسلم فهو له ". (رواه البيهقي في سننه الكبرى: ٦/۱٤۲، كتاب إحياء الموات، وأبو داود: ۲/٤۳۷، باب في إقطاع الأرضين).

شارحِ بخاری ابن بطال قرطبی رحمه الله لکھتے ہیں کہ جن حقوق میں عام لوگ برابر ہیں اگر کوئی ان میں سبقت کر لے تو سبقت کرنے والا زیادہ حقدار ہوگا ۔
من سبق إلى المواضع عند العالم أو المسجد أو غيره مما حقوق الناس فيه متساوية أنه أحق به. (شرح صحيح البخاري: ٦/۷٦).

نیز شرحِ مجلہ میں حقوقِ مجردہ کا عوض لینے کو جائز قرار دیا ہے ۔ ملاحظہ ہو شرحِ مجلہ میں مرقوم ہے:

قال: وعلى ما ذكره من جواز الاعتياض عن الحقوق المجردة بمال، ينبغي أن يجوز الاعتياض عن حق التعلي، وعن حق الشرب، وعن حق المسبل بمال، لأن هذه الحقوق لم تثبت لا صحابها لا جل دفع الضرر عنهم، بل تثبت لهم ابتداء بحق شرعي

الخ. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي: ۲/۱۲۱).

نیز حق طباعت و حق تصنیف کو محفوظ کر کے اس کا معاوضہ لینے کو درجِ ذیل کتبِ فتاوی میں جائز قرار دیا ہے:
(نظام الفتاوی: ۲/۳۱٤، و فتاوی رحیمیہ: ۳/۲٤۲، و فتاوی حقانیہ: ٦/۱۱۱، و فقہی مقالات: ۱/۲۲۳، و جدید فقہی مسائل: ۱/۱۷۸، و اسلام اور جدید معاشی مسائل: ۳/۵۸)۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے: (فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/۳۱۵، زمزم)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.