میعاد ختم ہونے (Expire) پر مال واپس کر کے کمپنی سے پیسے وصول کرنے کا حکم:
Question
ایک آدمی کی مشروبات کی دکان ہے کمپنی سے مشروب خرید کر بیچتا ہے، جب کمپنی میں نئے مشروبات آتے ہیں تو کمپنی دو ہزار بوتلیں دکاندار کو دیتی ہے، ایک ہزار قیمتاً اور ایک ہزار مفت میں، پھر میعاد ختم (Expire) ہونے پر کمپنی مشروبات واپس لیتی ہے اور قیمت واپس کر دیتی ہے، حال ہی میں کمپنی نے اس کو دو ہزار بوتلیں دی ایک ہزار قیمتاً اور ایک ہزار مفت میں، پھر دکاندار نے میعاد ختم (Expire) ہونے کی وجہ سے ۱۵ سو واپس کر دی، اور کمپنی نے ۱۵ سو کی قیمت واپس کی تو پانچ سو جو مفت میں تھیں ان کی قیمت لینا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ کمپنی کا ایک ہزار مشروبات مفت میں دینا ابتدائی تبرع و ہدیہ شمار ہوگا، اور مالک نے قبضہ بھی کر لیا ہے لہٰذا یہ دکاندار کے ہو گئے، میعاد ختم (Expire) ہونے پر دکاندار نے ۱۵ سو واپس کیے تو ایک ہزار میں اقالہ ہوا جو ثمن اول پر ہے لہٰذا صحیح اور درست ہے، باقی پانچ سو کی قیمت کمپنی نے ادا کی یہ بھی ہدیہ اور تبرع کے قبیل ہے، کیوں کہ بظاہر کمپنی کو پہلے سے معلوم تھا کہ ایک ہزار مفت میں دی تھی پھر بھی اس کی قیمت ادا کی، لہٰذا یہ تبرع اور ہدیہ ہے اور اس ہدیہ کا وصول کرنا بھی جائز اور درست ہے ۔ البتہ اگر کمپنی کو معلوم نہ ہو تو دھوکے سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ بتلا دینا چاہیے ۔ ملاحظہ ہو مسلم شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قال: من حمل السلاح علينا فليس منا ومن غشنا فليس منا. (رواه مسلم، رقم: ۱۰۱).
اللباب في شرح الكتاب
میں مذکور ہے:
الهبة لغة: التبرع والتفضل بما ينفع الموهوب مطلقاً، وشرعاً تمليك عين بلا عوض. (اللباب في شرح الكتاب: ۱/۲۱۹).
فتح القدير
میں ہے:
الهبة في الشريعة فهي تمليك المال بلا عوض. (فتح القدير: ۱۹/٤۵۷).
کمپنی کا اپنے خریدار کو مشروط ہدیہ کرنا تبرعِ مشروط کے قبیل سے ہے اور یہ جائز ہے ۔ اس کے دلائل ما قبل میں مذکور ہو چکے ہیں وہاں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں ۔ اور ایک ہزار بوتلوں میں اقالہ ہے اور اقالہ فریقین کی رضا مندی سے ثمن اول پر درست ہے ۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں مرقوم ہے:
الإقالة جائز ة في البيع بثمل الأول، لقول عليه الصلاة والسلام: من أقال نادماً بيعته أقال الله عثرته يوم القيامة، ولأن العقد حقهما فيملكانه رفعه دفعاً لحاجتهما، فإن شرطا أكثر منه أو أقل فالشرط باطل ويرد مثل الثمن الأول. (الهداية: ۳/۱۰۲، ط: بشري).
فتاوی عالمگیری میں مرقوم ہے:
وشرط صحة الإقالة رضاء المتقائلين. (الفتاوى الهندية: ۳/۱۵۷).
قال في شرح المجلة: للعاقدين أن يتقايلا البيع برضاهما بعد انعقاد فالرضاء شرط في الإقالة كما في سائر العقود وهي لا تصح إلا من العاقدين أو ورثتهما. (شرح المجلة لسليم رستم باز: ۱/۹۲). وكذا في الدر المختار: ۵/۱۲۱، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3682
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3682