مالِ عاریت پر تعدی کی وجہ سے تاوان کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #421Urdu

Question

ایک شخص نے کسی کو ایک ہفتہ کے لیے کتاب عاریت پر دی، اس نے ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی کتاب واپس نہیں کی، دسویں دن کتاب چوری ہو گئی تو مستعیر پر تاوان لازم ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر مستعیر نے بلا کسی سبب کے ایک ہفتہ میں کتاب واپس نہیں کی، پھر چوری ہو گئی تو اس پر تاوان لازم ہوگا ۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

وإذا قيدها بوقت فهي مطلقة إلا في حق الوقت حتى لو لم يردها بعد مضي الوقت مع الإمكان ضمن إذا هلكت سواء استعملها بعد الوقت أو لا. (البحر الرائق: ۷/۲۸۲، ماجديه).
قال في الدر المختار: وإن أطلق المعير أو المؤجر الانتفاع في الوقت والنوع انتفع ما شاء أي وقت شاء لما مر، وإن قيده بوقت أو نوع أو بهما ضمن بالخلاف إلى شر فقط لا إلى مثل أو خير. (الدر المختار: ۵/٦۸۰، سعيد).
قال في الفتاوى الهندية: وإن قيدها بوقت ومضي الوقت ولم يردها ضمن. (الفتاوى الهندية: ٤/۳۷۱، وكذا في تكملة رد المحتار: ۸/٤۱۸، سعيد).

باقیاتِ فتاوی رشیدیہ میں مذکور ہے:
فارسی عبارت کا ترجمہ: مگر اس صورت میں اگر وہ تین دن مقررہ وقت کے لیے عاریت تھی مگر بغیر کسی خاص وجہ کہ اس کے واپس کرنے میں دیر کی، تو اس غفلت کی وجہ سے ضمان واجب ہو جائے گا، اگر دیر کرنا بغیر ضرورت کے اور فضول تھا اور اگر بھیج دینے کا پکا ارادہ تھا اور سامان بغیر دیر کیے ضائع ہو گیا تو اس میں تاوان نہیں ہے ۔ (باقیاتِ فتاوی رشیدیہ، ص ۳۲۵، مفتی الٰہی بخش اکیڈمی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.