انٹرنیٹ پر خرید و فروخت کے وقت ایجاب و قبول کی صورت:
Question
ایک آدمی جنوبی افریقہ میں بیٹھا ہے اور چین میں ایک تاجر سے انٹرنیٹ پر ایجاب و قبول کرتا ہے، کیا اس ایجاب و قبول سے بیع منعقد ہو جائے گی یا نہیں؟ بیع کے ایجاب و قبول کے لیے مجلس کا ایک ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ اور اگر اس طرح نکاح کا معاملہ ہو تو کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ بذریعہ انٹرنیٹ خرید و فروخت بیع بالکتابت کے حکم میں ہو گی، بایں طور کہ جنوبی افریقہ میں انٹرنیٹ پر ایجاب کرتا ہے اور چین میں بیٹھا شخص انٹرنیٹ پر تحریر دیکھ کر قبول کرتا ہے تو جب تحریر پہنچی اور انٹرنیٹ کھول کر دیکھی اس وقت قبول کر لیا تو بیع منعقد ہو گئی جیسے فقہاء نے لکھا ہے کہ بیع بالکتابت میں تحریر پہنچنے کی مجلس کا اعتبار ہے ۔ ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فتاوی شامی میں رقم طراز ہیں:
ولا يتوقف شطر العقد فيه أي البيع على قبول غائب فلو قال بعت فلاناً الغائب فبلغه فقبل لم ينعقد اتفاقاً، إلا إذا كان بكتابة أو رسالة فيعتبر مجلس بلوغها. قال في رد المحتار: قوله إلا إذا كان بكتابة أو رسالة، صورة الكتابة أن يكتب أما بعد فقد بعت عبدي فلاناً منك بكذا فلما بلغه الكتاب قال في مجلسه ذلك اشتريت تم البيع بينهما، وصورة الإرسال أن يرسل رسولاً فيقول البائع بعت هذا من فلان الغائب بألف درهم فاذهب يا فلان وقل له فذهب الرسول فأخبره بما قال، فقبل المشتري في مجلسه ذلك
قلت: ويكون بالكتابة من الجانبين فإذا كتب اشتريت عبدك فلاناً بكذا فكتب إليه البائع قد بعت فهذا بيع كما في التتارخانية.
قوله فيعتبر مجلس بلوغها أي بلوغ الرسالة أو الكتابة قال في الهداية: والكتابة كالخطاب وكذا الإرسال حتى اعتبر مجلس بلوغ الكتابة وأداء الرسالة
(فتاوى الشامي: ٤/۵۱۲، سعيد).
نئے مسائل اور علمائے ہند کے فیصلے میں مذکور ہے:
انٹرنیٹ پر بھی اگر بیک وقت عاقدین موجود ہوں اور ایجاب کے بعد فوراً دوسرے کی طرف سے قبول ظاہر ہو جائے تو بیع منعقد ہو جائے گی اور ان صورتوں میں عاقدین کو متحد المجلس تصور کیا جائے گا ۔
اگر انٹرنیٹ پر ایک شخص نے بیع کی پیشکش کی اور دوسرا شخص اس وقت انٹرنیٹ پر موجود نہیں تھا، بعد کو اس نے اس پیشکش کرنے والے کا پیغام حاصل کیا، یہ صورت تحریر و کتابت کے ذریعہ بیع کی ہو گی، اور جس وقت دوسرا شخص اس پیشکش کو پڑھے اسی وقت اس کی جانب سے قبولیت کا اظہار ضروری ہے ۔
لیکن جہاں تک نکاح کی بات ہے تو عقدِ نکاح منعقد ہونے کے لیے ایجاب و قبول کی مجلس کا ایک ہونا ضروری ہے اور انٹرنیٹ پر چونکہ مجلس بدل گئی لہٰذا نکاح منعقد نہیں ہوگا، ہاں صحیح صورت یہ ہے لڑکی انٹرنیٹ پر کسی کو وکیل بنا دے پھر وکیل مجلس نکاح میں موکل کی طرف سے ایجاب و قبول کر لے ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں مرقوم ہے:
وأما الذي يرجع إلى مكان العقد فهو اتحاد المجلس إذا كان العاقدان حاضرين وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح. (بدائع الصنائع: ۵/۳۲٦، سعيد).
(وكذا في الفتاوى الهندية: ٦/٤۳۱، وخلاصة الفتاوى: ۲/۱۵، والبحر الرائق: ٦/۳۵۱).
کتاب الفتاوی میں مذکور ہے:
نکاح میں ضروری ہے کہ ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میں ہو، سوال میں جن صورتوں کا ذکر ہے اس میں ظاہر ہے کہ بات کرنے یا تحریری طور پر اپنی بات کو پیش کرنے والے کی مجلس الگ ہوتی ہے اور مخاطب کی مجلس الگ، اس لیے ان ذرائع ابلاغ کے ذریعہ نکاح کا ایجاب و قبول درست نہیں، البتہ کسی شخص کو ایجاب و قبول کا وکیل بنایا جا سکتا ہے اور وہ اپنے موکل کا نکاح کر سکتا ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ٤/۳۰٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3717
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3717