مخصوص قسم کی کریم کی تجارت اور اس کے استعمال کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #451Urdu

Question

ایک قسم کی کریم (Minyak Lintah) بازار میں دستیاب ہے اس کے مکونات میں سے: ناریل کا تیل (coconut oil)، کلونجی، (black seed) زنجبیل (ginger)، مار ماہی (eel) اور ایک قسم کا کیڑا (Leech) ہے، اس کے استعمال کا طریقہ یہ ہے کہ مرد اپنے مخصوص عضو پر مالش کرتا ہے جس کی وجہ سے جماع پر قوت حاصل ہوتی ہے ۔ کیا اس کی تجارت جائز ہے یا نہیں؟ نیز اس کا استعمال کرنا کیسا ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ مذکورہ بالا کریم کے تمام مکونات صحیح اور درست ہیں، فقط ایک چیز کیڑا یہ حشرات الارض میں سے ہے، لیکن چونکہ اس میں دمِ سائل نہیں ہے لہٰذا میتہ یا ناپاک نہیں، پاک ہے، بنا بریں خارجی استعمال درست ہے اور اس کی تجارت بھی جائز اور درست ہے، ہاں غیر شادی شدہ نوجوانوں کو بے حیائی اور فحش کاری کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، نیز ایسی جگہوں پر جا کر بھی نہ بیچا جائے جو فحش کاری اور زنا کاری کے اَڈے ہیں ۔ ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

لم يذكروا دودة القرمز أما إذا كانت حية فينبغي جريان الخلاف الآتي في دود القز وبزره وبيضه وأما إذا كانت ميتة وهو الغالب فإنها علي ما بلغنا تخنق في الكلس أو الخل فمقتضي ما مر بطلان بيعها بالدراهم لأنها ميتة، وقد ذكر سيدي عبد الغني النابلسي في رسالة أن بيعها باطل وأنه لا يضمن متلفها لأنها غير مال، قلت: وفيه أنها من أعز الأموال اليوم ويصدق عليها تعريف المال المتقوم ويحتاج إليها الناس كثيراً في الصباغ وغيره فينبغي جواز بيعها كبيع السرقين والعذرة المختلطة بالتراب مع أن هذه الدودة إن لم يكن لها نفس سائلة تكون ميتتها طاهرة كالذباب والبعوض وإن لم يجز أكلها، وسيأتي أن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع. (فتاوى الشامي: ۵/۵۱، سعيد).

فتاوی رحیمیہ میں مذکور ہے: مکھی اور چیونٹی میں دمِ سائل نہیں ہے اس لیے پاک ہے مگر کھانا حلال نہیں، خارجی استعمال ہر طرح درست ہے، داخلی استعمال درست نہیں ۔ (فتاوی رحیمیہ: ٦/۲۵) ۔
بہشتی زیور میں مذکور ہے:
مسئلہ: دریائی جانور سب پاک ہیں چھوٹے ہوں یا بڑے مذبوح ہوں یا غیر مذبوح، ہاں کھانا کسی کا سوائے مچھلی کے مذہبِ حنفی میں درست نہیں تو خارجی استعمال تمام حیوانات دریائی کا اور ان کے تمام اجزاء کا درست ہوا ۔ (بہشتی زیور، نواں حصہ، ۷۷۸، ط: دار الاشاعت) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ٦/۷۷۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.