بس میں نماز پڑھنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #52Urdu

Question

اگر بس والے راستہ میں نماز کے لیے بس نہیں روکتے تو بس میں بیٹھ کر نماز پڑھے گا یا نماز قضا کرے گا؟

Answer

بس میں نماز پڑھنا درست ہے اور استقبالِ قبلہ اور قیام ضروری ہے اگر ممکن نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے رکوع سجدہ کے ساتھ ورنہ اشارہ سے پڑھے اور بعد میں اعادہ کر لے ۔
ملاحظہ ہو مراقی الفلاح میں ہے:

وقالا أي أبو يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله لا تصح جالساً إلا من عذر وهو الأظهر لحديث ابن عمر رضي الله عنه أن النبي ﷺ سئل عن الصلاة في السفينة فقال: صل فيها قائماً إلا أن تخاف الغرق وقال مثله لجعفر رضي الله عنه ولأن القيام ركن فلا يترك إلا بعذر محقق لا موهوم

وإذا كانت سائرة يتوجه المصلي فيهما إلى القبلة لقدرته على فرض الاستقبال عند افتتاح الصلاة وكلما استدارت السفينة عنها أي القبلة يتوجه المصلي باستدارتها إليها أي القبلة في خلال الصلاة. (مراقي الفلاح على نور الإيضاح: ۱٥۸، فصل في الصلاة في السفينة، مكة المكرمة. وفتح القدير ۱/۲۷۰، دار الفكر. وشامي: ۲/٤۰، سعيد كمبني. والبحر الرائق: ۲/٦٤)

جدید فقہی مسائل میں ہے:
بَسوں کی ساخت ایسی ہوتی ہے کہ اگر بَس سمتِ قبلہ میں نہ جا رہی ہو تو قبلہ کا استقبال نہیں کیا جا سکتا ایسی صورت میں اگر بس ٹھہری ہوئی ہو تو نیچے اتر کر نماز ادا کرے اور سوار رکوانے پر قادر نہ ہو تو استقبال کے بغیر بھی نماز ادا کی جا سکتی ہے ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۱۲۸، نعیمیہ دیوبند)
احسن الفتاوی میں ہے:
ریل گاری اور بس میں کھڑے ہو کر قبلہ رخ نماز پڑھیں اگر استقبالِ قبلہ اور قیام نہیں ہو سکتے تو اشارہ سے نماز ادا کرے اور بعد میں اعادہ کر لے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۸۸ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۵/۵۲٤، مبوب و مرتب، جامعہ فاروقیہ)
البحر الرائق میں ہے:

أن العذر إن كان من قبل الله تعالى لا تجب الإعادة وإن كان من قبل العبد وجبت الإعادة. (البحر الرائق: ۱/۱٤۲، كوئتة)

شرح منیۃ میں ہے:

والمقيد إذا صلى قاعداً لعدم قدرته على القيام بسبب القيد يعيد إذا زال ذلك السبب. (شرح منية المصلي: ۷٦، سهيل).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.