حالت قیام میں عورتوں کا قدمین کے درمیان فاصلہ رکھنے کا حکم:
Question
حالتِ قیام فی الصلاۃ میں عورتیں دونوں قدموں کو ملا کر رکھیں یا بقدر چہار انگشت فاصلہ رکھیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
عورتوں کے لیے بھی مناسب یہ ہے کہ دونوں قدموں کے درمیان بقدر چہار انگشت فاصلہ رکھیں جیسا کہ کتبِ فقہ میں مذکور ہے اور اس مقام پر مرد و عورت میں فرق نہیں کیا گیا ۔
ملاحظہ ہو مراقی الفلاح میں ہے:
ويسن تفريج القدمين في القيام قدر أربع أصابع لأنه أقرب إلى الخشوع. وفي الطحطاوي: نص عليه في كتاب الأثر عن الإمام ولم يحك فيه خلافاً. (مراقي الفلاح مع الطحطاوي: ص ۲٦۲، فصل في بيان سننها، قديمي. وكذا في الشامي: ۱/٤٤٤، بحث القيام، سعيد. والفتاوى الهندية: ۱/۷۳، الفصل الثالث في كيفية الصلاة)
امداد الاحکام میں ہے:
قال في الدر المختار: وينبغي أن يكون بينهما مقدار أربع أصابع اليد لأنه أقرب إلى الخشوع هكذا روي عن أبي النصر الدبوسي أنه كان يفعله كذا في الكبرى
اس سے معلوم ہوا کہ بحالتِ قیام دونوں پیروں میں چار انگل کا فصل مناسب ہے، اور اسی حکم سے کسی جگہ عورتوں کو مستثنی نہیں کیا گیا پس ان کے لیے بھی یہی مناسب ہے ہاں رکوع و سجود کی کیفیت مرد و عورت کی مختلف ہے، واللہ اعلم ۔ (امداد الاحکام : ۱/٤٦٦، دار العلوم کراچی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/445
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-445