قراءت کے درمیان میں سجدۂ تلاوت کے بعد استعاذہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #109Urdu

Question

اگر کوئی شخص تلاوت کے درمیان سجدۂ تلاوت کر لے پھر تلاوت جاری رکھنا چاہے تو استعاذہ پڑھے گا یا نہیں؟

Answer

تلاوت کے درمیان قراءت سے متعلق کام میں مشغول ہو تو پھر استعاذہ کی ضرورت نہیں ہے، اور اگر قراءت سے متعلق نہیں تو دوبارہ استعاذہ پڑھنا سنت ہے ۔ اور سجدۂ تلاوت بظاہر قراءت سے متعلق ہے اس لیے کہ تلاوت ہی سے واجب ہوا ہے لہذا دوبارہ استعاذہ پڑھنا سنت نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو شرح منیۃ المصلی میں ہے:

والتعوذ يستحب مرة واحدة ما لم يفصل بعمل دنيوي. (شرح منية المصلي: ص ٤۹٥، مسائل زلة القاري، سهيل اكيڈمي)

معارف القرآن میں ہے:
تلاوتِ قرآن نماز میں ہو یا خارج نماز دونوں صورتوں میں تلاوت سے پہلے "اعوذ باللہ " پڑھنا سنت ہے، مگر ایک دفعہ پڑھ لیا تو آگے جتنا پڑھتا رہے وہی ایک تعوذ کافی ہے ۔ البتہ تلاوت کو درمیان میں چھوڑ کر کسی دنیوی کام میں مشغول ہو گیا اور پھر دوبارہ شروع کیا تو اس وقت پھر دوبارہ تعوذ اور بسم اللہ پڑھنا چاہیے ۔ (معارف القرآن: ۵/۳۸۹، سورۃ النحل، از مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله)
الاتقان میں ہے:

قال: وإذا قطع القراءة إعراضاً أو بكلام أجنبي ولورد السلام استأنف (الاستعاذة) ولو يتعلق بالقراءة فلا. (الاتقان في علوم القرآن: ۱/۲۹۳، آداب التلاوة، بيروت)

النشر میں ہے:

إذا قطع القاري القراءة لعارض من سؤال أو كلام يتعلق بالقراءة لم يعد الاستعاذة وذلك بخلاف ما إذا كان الكلام أجنبياً ولورد السلام فإنه يستأنف الاستعاذة وكذا لوكان القطع إعراضاً عن القراءة كما تقدم، والله أعلم. (النشر في القراءات العشر: ۱/۲٥۹).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.