مسجدِ محلہ میں جماعت فوت ہونے کی وجہ سے دوسری مسجد جانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #165Urdu

Question

اگر کسی شخص کو اپنے محلے کی مسجد میں دو رکعت مل سکتی ہو اور دوسری جگہ جو محلہ کی مسجد نہیں ہے پوری نماز باجماعت مل رہی ہے تو دور جانا چاہیے یا اپنی مسجد ہی میں دو رکعت میں شامل ہو جائے؟

Answer

جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب یا سنتِ مؤکدہ ہے ۔
كما في الدر: والجماعة سنة مؤكدة للرجال، قال الزاهدي: أرادوا بالتأكيد الوجوب وقيل واجبة و عليه العامة أي عامة مشايخنا. (الدر المختار ۱/٥٥۲، سعيد)

نیز اپنے ہی محلے کی مسجد میں جماعت سے نماز پڑھنا افضل ہے اور اس محلے کا حق ہے ۔
كما في الشامي: قوله ومسجد حيه أفضل من الجامع

لو لم يكن لمسجد منزله مؤذن فانه يذهب إليه ويؤذن فيه ويصلي ولو كان وحده لأن له حقاً عليه فيؤديه. (الشامي: ۱/٦٥۹، سعيد)

اور اگر جماعت کے ساتھ نماز اپنے محلہ کی مسجد میں فوت ہو جائے تو دوسری مسجد میں تلا ش کرنا ضروری نہیں ۔
كما في بدائع الصنائع: إذا فاتته الجماعة لا يجب عليه الطلب في مسجد آخر. (بدائع الصنائع: ۱/۱٥٦، سعيد)

مذکورہ بالا عبارات سے پتا چلا کہ اگر اپنے محلہ کی مسجد میں جماعت سے نماز مل جانے کی امید ہے اگر چہ چند رکعات فوت ہو جائیں تب بھی بہتر یہ ہی ہے کہ اپنے محلہ کی مسجد میں نماز ادا کرے ہاں اگر جماعت کلیۃً فوت ہو چکی ہو اور دوسری مسجد میں جماعت کی نماز ملنے کی امید ہو تو اس کو اختیار ہے چاہے تو تنہا نماز اپنی مسجد میں پڑھ لے اور چاہے تو دوسری مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لے ۔
كما في بدائع الصنائع: إذا فاتته الجماعة في مسجد حيه فإن أتي مسجد اً آخر يرجو إدراك الجماعة فيه فحسن وإن صلى في مسجد حيه فحسن. (بدائع الصنائع: ۱/۱٥٦، سعيد)

خلاصہ یہ ہے کہ اگر مسجدِ محلہ کے علاوہ دوسری مسجد قریب ہے اور اس میں جماعت ملنا یقینی ہے تو پھر دوسری مسجد جانا چاہیے تاکہ جماعت اور مسجد دونوں کا ثواب مل جائے اور دوسری مسجد کا مقامِ صلاۃ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے دے، احادیث میں جماعت کی فضیلت وارد ہے اپنی مسجد کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.