عورت کا مردوں کی صف میں کھڑ ا ہونا :
Question
عورت مرد کے ساتھ صف میں کھڑی ہو کر نماز پڑھ سکتی ہے یا نہیں؟
Answer
نماز میں عورت کا مقام مرد کے پیچھے ہے لہٰذا عورت مرد کے ساتھ صف میں کھڑی ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتی ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن جدته مليكة دعت رسول الله ﷺ لطعام صنعته له فأكل منه ثم قال: قوموا فلأصلي لكم قال أنس رضي الله عنه فقمت إلى حصير لنا قد اسود من طول ما لبس فنضحته بماء فقام رسول الله ﷺ وصففت واليتيم وراءه والعجوز من ورائنا فصلى لنا رسول الله ﷺ ركعتين ثم انصرف. (رواه البخاري: ۱/٥٥. والترمذي: ۱/٥٥)
دوسری حدیث میں ہے:
فكان ابن مسعود رضي الله عنه يقول: أخّروهن من حيث أخّرهن الله. (مصنف عبد الرزاق: ۳/۱٤۹/٥۱۱٥، باب شهود النساء الجماعة)
ہاں اگر گھر میں بیوی شوہر کے برابر کھڑی ہو کر اپنی اپنی نماز پڑھ لیں تو یہ جائز ہے، لیکن اجنبی مرد کے ساتھ کھڑا ہونا یا باجماعت نماز میں ایک امام کی اقتداء میں برابر کھڑے رہنے کی اجازت نہیں ۔
آنحضور
ﷺ
فرماتے ہیں کہ مردوں کی صفوں میں پہلی صف اچھی اور آخری صف بری اور عورتوں کی صفوں میں پہلی صف بری اور آخری صف اچھی ۔ ملاحظہ ہو حدیث میں ہے:
"خير صفوف الرجال أولها وشرها آخرها وشر صفوف النساء أولها وخيرها آخرها
" (
رواه مسلم: ۱/۱۸۲، باب تسوية الصفوف وإقامتها. والبيهقي في سننه الكبرى: ۳/۹۰، باب لا يأتم رجل بامرأة)
پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے تو فتنہ کی وجہ سے یہ فرمایا کہ اگر رسول اللہ ﷺ عورتوں کا شر ملاحظہ فرماتے تو بنی اسرائیل کی عورتوں کی طرح مسجد میں باجماعت نماز سے منع فرماتے یعنی اس کا تصور بھی نہیں کہ کہیں عورت مرد کے ساتھ نماز باجماعت میں کھڑی ہو جائے ۔
واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/529
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-529