صلوٰۃ القائم خلف القاعد علی الکرسی کا حکم:
Question
اگر کوئی حنفی امام ہو جس کے گھٹنوں میں سخت درد ہو (ARTHRITIS) کا شکار ہو وہ کھڑے ہو کر رکوع بھی ٹھیک سے کر سکتا ہے، لیکن مسلمان ماہر طبیب نے کہا ہے کہ اگر وہ سجدہ میں جائے گا تو ہمیشہ کے لیے اس کے گھٹنے خراب ہو جائیں گے ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا وہ شخص کرسی پر بیٹھ کر سجدہ اشارہ سے کر کے امامت کرا سکتا ہے؟ نیز یہ بھی بتلائیے کہ اس کے لیے کتنی رخصت ہے اور اس کے لیے حل کیا ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ امام مومی یعنی اشارہ سے سجدہ کرتا ہے، اور مومی کے پیچھے غیر مومی کی نماز صحیح اور درست نہیں ہوتی ۔
لأنه أدني حالاً من المأمومين
۔ ہاں امام اگر زمین پر بیٹھ کر رکوع، سجدہ زمین پر کرتا ہے تو پھر اس کے پیچھے قائم مقتدی کی نماز درست ہو گی،
لأن صلاة القائم خلف القاعد الذي يركع ويسجد صحيح
۔ لہذا امام ماہر طبیب کے مشورہ سے زمین پر بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھا لے ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
ويصلي القائم خلف القاعد وقال محمد رحمه الله: لا يجوز، وهو القياس لقوة حال القائم ونحن تركناه بالنص. وهو ما روي أنه عليه الصلاة والسلام صلي آخر صلاته قاعداً والقوم خلفه قيام
ولا يصلي الذي يركع ويسجد خلف المومي لأن حال المقتدي أقوي. (الهداية مع فتح القدير: ۱/۳٦۸، ۳۷۱، دار الفكر).
در مختار میں ہے:
وصح اقتداء
وقائم بقاعد يركع ويسجد، لأنه ﷺ صلي آخر صلاته قاعداً وهم قيام وأبو بكر يبلغهم تكبيره. وفي الشامية: قوله "وقائم بقاعد"
وقيد القاعد بكونه يركع ويسجد، لأنه لو كان مومياً لم يجز اتفاقاً. (الدر المختار مع رد المحتار: ٥۸۸، سعيد).
نیز مذکور ہے:
ولا قادر على ركوع وسجود بعاجز عنهما لبناء القوي على الضعيف. وفي الشامية: قوله بعاجز عنهما أي بمن يؤمي بهما قائماً أو قاعداً، بخلاف ما لو أمكناه قاعداً فيصح قال ط (الطحطاوي): والعبرة للعجز عن السجود، حتى لو عجز عنه وقدر على الركوع أومأ. (الدر المختار مع رد المحتار: ٥۷۹، سعيد).
وللاستزادة انظر: (البحر الرائق: ۱/۳
٦٤
، المكتبة الماجدية، وشرح منية المصلي، ص: ٥۱
٦
، سهيل، وفتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/۸۹، وفتح باب العناية: ۱/۲۸۱، بيروت).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/542
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-542