قنوتِ نازلہ دفعِ مصائب کے لیے پڑھنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #263Urdu

Question

کیا قنوتِ نازلہ دفعِ مصائب کے لیے صرف تیس دن تک پڑھنا چاہیے یا اس سے زیادہ؟ کب اور کس وقت؟ کیا عشاء کی چوتھی رکعت میں پڑھ سکتے ہیں؟

Answer

قنوتِ نازلہ دفعِ مصائب کے لیے پڑھنا چاہیے اور تیس دن کی کوئی تحدید نہیں جب تک مصیبت وبلا عام ہو وہاں تک پڑھیں اور فجر کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد قومہ میں پڑھیں، نیز عشاء کی چوتھی رکعت میں بھی پڑھ سکتے ہیں ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

ولا يقنت لغيره إلا لنازلة فيقنت الإمام في الجهرية وقيل في الكل. وفي الشامي: قال في الصحاح: النازلة الشديدة من شدائد الدهر، ولا شك أن الطاعون من أشد النوازل أشباه (قوله فيقنت الإمام في الجهرية) يوافقه ما في البحر والشرنبلالية عن شرح النقاية عن الغاية: وإن نزل بالمسلين نازلة قنت الإمام في صلاة الجهر، وهو قول الثوري وأحمد، وكذا ما في شرح الشيخ إسمعيل عن الغاية: قنت في صلاة الفجر، ويؤيده ما في شرح المنية حيث قال بعد كلام: فتكون شرعيته: أي شرعية القنوت في النوازل مستمرة

وهو صريح في أن القنوت النازلة عندنا مختص بصلاة الفجر دون غيرها من الصوات الجهرية أو السرية. (شامي: ۲/۱۱، باب الوتر، سعيد)

تقریرات الرافعی میں ہے:

(قوله يوافقه ما في البحر) قال العلامة ط والسندي ما وقع في بعض نسخ البحر والإمداد عن الغاية إن نزل بالمسلمين نازلة قنت الإمام في صلاة الجهر فهو تحريف من النساخ وصوابه الفجر. (تقريرات الرافعي: ۲/۸۸، سعيد)

کفایت المفتی میں ہے:
جہری نمازوں کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد قومے میں قنوتِ نازلہ پڑھیں امام زور سے قنوت پڑھے اور مقتدی آہستہ آہستہ آمین کہتے جائیں، قنوتِ نازلہ کسی مصیبت کے وقت پڑھنا جائز ہے ۔ (کفایت المفتی:
۳/٤٤۲
، دار الاشاعت)
عمدۃ الفقہ میں ہے:
آقائے دو جہاں رحمۃ للعالمین ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اسوۂ حسنہ یہ ہے کہ جب مسلمانوں پر کوئی عام اور دیگر عالمگیر مصیبت نازل ہو جائے مثلا غیر مسلم حکومتوں کی طرف سے حملہ اور تشدد ہونے لگے اور دنیا کے سرپر خوفناک جنگ چھا جائے یا دیگر بلاؤں اور بربادیوں اور ہلاکت خیز طوفانوں میں مبتلا ہو جائے، تو ایسی مصیبت کے دفعیہ کے لیے فرض نمازوں میں قنوتِ نازلہ پڑھتے تھے اور جب تک وہ مصیبت دفع نہ ہو جائے یہ عمل برابر جاری رہتا تھا، لہذا جب کوئی عام مصیبت پیش آئے تو مصیبت کے زمانے تک قنوتِ نازلہ پڑھنا جائز ہے ۔ (عمدۃ الفقہ:
۲/۲۹٥
، کتاب الصلاۃ قنوتِ نازلہ، مجددیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.