تقلید کے لغوی اور اصطلاحی معنی میں جوڑ:
Question
تقلید کے لغوی اور اصطلاحی معنی میں کیا جوڑ ہے اگر یوں کہا جائے کہ جس طرح قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھنا تقلید کہا جاتا ہے اسی طرح ائمہ کی تقلید کے معنی ائمہ کے فقہ کو اپنے گلے کی رسی بنانا ہے تو یہ کہنا کہاں تک درست ہے کیا تشبیہ بالا میں تقلید کی توہین تو نہیں ہے، کہ انسانِ مقلد کو بہائم (جانوروں) سے تشبیہ دی جا رہی ہے؟
Answer
تقلید کے معنی کسی کے گلے میں قلادہ ڈالنا ہے، اور یہ قلادہ جب انسان کے گلے میں ہو تو ہار کہلاتا ہے اور جب کسی جانور کے گلے میں ہو تو اردو میں پٹہ کہلاتا ہے بہر حال قلادہ جانوروں کے ساتھ خاص نہیں ہے، مشہور لغت کی کتاب لسان العرب میں علامہ افریقی لکھتے ہیں ۔
والقلادة ما جعل في العنق يكون للإنسان والفرس والكلب والبدنة التي تهدي. (لسان العرب: ۳/۳٦٦).
معلوم نہیں کہ ہمارے غیر مقلدین بھائیوں کو جانوروں والا قلادہ کیوں پسند ہے، حالانکہ قرآن کریم میں قلائد ان مقدس جانوروں کو کہا گیا ہے جن کے گلے میں احترام کا قلادہ ڈالا گیا ہو جس کو ابن المنظور افریقی نے
"والبدنة التي تهدي"
سے تعبیر کیا ہے چونکہ مقلد اپنے امام کے گلے میں اپنی عقیدت کا ہار ڈالتا ہے اس لیے مقلد کہلاتا ہے ۔
تقلید کی اصطلاحی تعریف مختلف الفاظ میں منقول ہے سب سے بہتر تعریف کشاف اصطلاحات الفنون میں ہے ۔ ملاحظہ ہو:
التقليد اتباع الإنسان غيره فيما يقول أو يفعل معتقداً للحقيقة من غير نظرٍ إلى الدليل كان هذا المتبع جعل قول الغير أو فعله قلادة في عنقه من غير مطالبة دليل. (كشاف اصطلاحات الفنون: ۲/ ۱۱۷۸).
حسامی کی شرح نامی میں یوں تعریف کی گئی ہے ۔
التقليد اتباع الغير على ظن أنه محق بلا نظر في الدليل. (شرح نامي، ص: ۱۹۰).
حاشیہ نور الانوار میں ہے:
التقليد اتباع الرجل غيره فيما سمعه يقول أو في فعله على زعم انه محق بلا نظر في الدليل. (حاشية نور الأنوار، رقم الحاشية: ۱۸، ص ۲۲۰).
مشہور غیر مقلد عالم مولانا ثناء اللہ امرتسری تقلید کی تعریف کے بعد فتاوی ثنائیہ میں تحریر فرماتے ہیں:
ان سب تعریفات کا مفہوم مولانا اشرف علی تھانوی نے یوں ادا کیا ہے کہ تقلید اسے کہتے ہیں کہ کسی کا قول محض اس حسن ظن پر مان لینا کہ یہ دلیل کے موافق بتلا دے گا اور اس سے دلیل کی تحقیق نہ کرنا ۔ (
فتاوى ثنائية: ۱/ ۲٦۰).
چونکہ مقلد اپنے امام کے گلے میں عقیدت کا ہار ڈالتا ہے اس لیے اس عمل کو تقلید کہتے ہیں اور تقلید اور قلادہ چونکہ انسان کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اس لیے اس میں توہین نہیں ہے، نیز اگر جانور کے ساتھ تشبیہ بھی ہو تب بھی مشبہ کے اندر مشبہ بہ کی تمام صفات نہیں ہوتیں، مثلاً "
زيد كالأسد"
میں شجاعت ہی مقصود ہے نہ کہ پورا حلیہ مقصود ہے، نیز اگر کوئی غیر مقلد لفظ تقلید میں توہین محسوس کرتا ہے تو پھر اس حدیث کا کیا جواب ہو گا جس میں تقلید یا تقلید کا لفظ انسان کے لیے استعمال ہوا ہے ۔
بخاری شریف میں ہے:
"فتلقاهم النبي ﷺ على فرس لأبي طلحة عري وهو متقلد سيفه فقال: "لم تراعوا، لم تراعوا" (صحيح البخاري: ۱/ ٤۲٦، ٤۲۷).
ترمذی شریف میں ہے:
"وإذا بلال متقلد سيفه"
اس حدیث میں حضرت بلال کے لیے اور گذشتہ حدیث میں نبی کے لیے یہ لفظ استعمال ہوا ہے کیا کوئی ذی عقل اور ہوش مند اس میں گستاخی کا پہلو نکال سکتا ہے معلوم ہوا کہ یہ لفظ جانوروں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، نیز اہل لغت بھی اس لفظ کو جانوروں کے ساتھ مخصوص نہیں سمجھتے ہیں، ملاحظہ ہو: تاج العروس شرح قاموس میں ہے:
(وقلدتها قلادة) بالكسر وقلاداً بحذف الهاء (جعلتها في عنقها) فتقلدت (ومنه) التقليد في الدين. (تاج العروس: ٤/٤۷۵).
معلوم ہوتا ہے کہ غیر مقلدین حضرات کو جب کوئی بات نہیں ملی تو خواہ مخواہ یہ اعتراض داغ دیا جس سے ان کی کج فہمی اور کم علمی کا ثبوت بھی مل گیا اللہ تعالی ہدایت عطا فرمائیں اور اچھائی میں سے برائی تلاش کرنے کی عادت بد کو ان سے دور فرما دیں ۔ آمین ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/64
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-64