تجوید میں بے احتیاطی کرنے والے کے پیچھے نماز تراویح کا حکم:
Question
ایسے حافظ کے پیچھے نماز پڑھنا جو تجوید کو جاننے کے باوجود بہت تیزی سے قرآن پڑھتا ہے اور تجوید کی رعایت بھی نہیں
كرتا ،
چہ حکم دارد؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں اگر حافظ بہت تیزی سے پڑھتا ہے کہ مقتدیوں کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا اور لحنِ جلی کرتا ہے تو نماز درست نہیں ہو گی، اور لحن خفی کرتا ہے تو نماز فاسد تو نہیں ہو گی مگر مکروہ ضرور ہو گی، نیز قرآن مجید کو بے پر واہی اور بغیر تجوید کی رعایت کے پڑھنا سخت گناہ ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی قاضی خان میں ہے:
ولا ينبغي للقوم أن يقدموا في التراويح الخوشخواں
(اچھی آواز والا)
ولكن يقدموا الدرستخواں
(صحیح پڑھنے والا)
فإن الإمام إذا كان يقرأ بصوت حسن يشغل عن الخشوع والتدبر والتفكر وكذا لوكان الإمام لحاناً لا بأس بأن يترك مسجد ه. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/۲۳۸، فصل في مقدار القراءة في التراويح. وكذا في شرح منية المصلي: ٤۰۷، سهيل. وكذا في الفتاوى الهندية. وعلى هامشه قال: قوله: الخوشخواں معناه حسن الصوت والدرستخواں صحيح القراءة ۱/۱۱٦)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
جمال القرآن میں ہے: تجوید کے خلاف قرآن پڑھنا یا غلط پڑھنا یا بے قاعدہ پڑھنا لحن کہلاتا ہے اور یہ لحن دو قسم کا ہے ایک یہ کہ ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھ دیا جیسے الحمد کی جگہ الھمد پڑھ دیا، ش کی جگہ س پڑھ دیا بڑی ح کی جگہ چھوٹی ھ پڑھ دی یا ذال کی جگہ زاء پڑھ دیا ص کی جگہ س پڑھ دیا ان غلطیوں کو لحن جلی کہتے ہیں اور یہ حرام ہے بعض جگہ اس سے معنی بگڑ کر نماز بھی جاتی رہتی ہے ۔ (جمال القرآن)
لہذا اس طرح پڑھنے والا امامت کے لائق نہیں ہے اسے لازم ہے کہ پہلے قرآن صحیح پڑھنا سیکھے تب امامت کرائے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ٤/
۳٥۱
، باب الامامۃ)
دوسری جگہ مرقوم ہے:
جب امام کی قراءت صاف اور صحیح نہیں ہے اور مقتدیوں کو سمجھ میں نہیں آتا تو ان کے لیے امامت کرنا درست نہیں، مقتدیوں کو چاہیے کہ کسی ایسے امام کا انتظام کریں جو قرآن شریف صاف اور صحیح پڑھے ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۱/۱۸۸
نیز ملاحظہ ہو: احسن الفتاوی:
۳/٦۹
۔ و فتاوی دار العلوم دیوبند: ٤/
۱٥۹
، مدلل و مکمل، دار الاشاعت ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/656
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-656