تراویح میں جہراً بسم اللہ پڑھنے کا حکم:
Question
فتاوی رشیدیہ میں ہے: تراویح میں بالسر وبالجہر دونو ں طرح پڑھنا درست ہے، کوئی بالجہر پڑھے تو اس پر اعتراض کرنا نامناسب ہے (
ص۳۳۷)
اس کے بعد حمید اللہ مقیم مدرسہ مطلع العلوم میرٹھ لکھتے ہیں: ہاں اتنی بات ہے کہ بسم اللہ کا جہراً پڑھنا متروک ہو رہا ہے تو یہ سنتِ مردہ کے حکم میں ہے پس اس کو رواج دینے میں امید ہے کہ سو شہیدوں کا ثواب ملے، پس اولیٰ ہے کہ اکثر بسم اللہ کو جہر کے ساتھ نماز میں پڑھا کریں خواہ وہ نمازیں فرض ہوں یا جن میں قراءت جہر کے ساتھ پڑھی جاتی ہو جیسے فجر، عشاء، مغرب، خواہ تراویح ہو ۔
اب سوال یہ ہے کہ تراویح میں بالجہر بسملہ پڑھی جائے بنیتِ احیاء سنت تو کیا مستحقِ ثواب ۱۰۰ شہیدوں کا ہوگا؟ اور کیا فرض نمازوں کا بھی یہی حکم ہوگا؟ بينوا توجروا !
Answer
مذہبِ احناف کے مطابق بسم اللہ جہراً پڑھنا خلافِ اولیٰ ہے چاہے تراویح ہو یا فرض نمازیں ہوں، پورے قرآن میں صرف ایک مرتبہ تراویح میں کسی سورت کے شروع میں جہراً بسم اللہ پڑھنا چاہیے اس کے علاوہ سراً پڑھ لے ۔
فقہاء کی عبارات اور فتاوی میں اس کی تصریحات موجود ہیں اور احیاء سنت میں سو شہیدوں کا ثواب ملنا اس حدیث کی تحقیق ابو اب الحدیث گذر گئی ۔
اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی نے مروجہ بدعتِ قبیحہ کو مٹایا اور اس کی جگہ اصل سنت کا رواج دیا تو ۱۰۰ شہیدوں کا ثواب ملے گا، گویا یہاں سنت کے مقابل میں بدعت ہے اور مسئلہ مذکورہ میں یعنی تسمیہ جہراً یا سراً پڑھنا اس میں دونوں جانب احادیث ہیں البتہ سراً پڑھنے کی احادیث کثیر اور اعلیٰ درجہ کی ہیں ۔
اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی (
نوّر الله مرقده)
کے قول کا مطلب یہ ہے کہ جہراً خلافِ اولیٰ ہے اس کی وجہ سے مسجد میں اختلاف اور جھگڑا نہیں کرنا چاہیے پہلے سمجھانا چاہیے نہ مانے تو اعتراض نہ کرے اس لیے کہ یہ بھی حدیث سے ثابت ہے اور درست ہے ۔
حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
وتسن التسمية أول كل ركعة قبل الفاتحة لأنه ﷺ كان يفتتح صلاته ببسم الله الرحمن الرحيم
وهي آية واحدة من القرآن
وأنزلت للفصل بين السور
ويسن الإسرار بها للآثار الواردة بذلك. (حاشية الطحطاوي مع مراقي الفلاح: ص۲٦۰، ۲٦۲، قديمي)
الدر المختار میں ہے:
وسمي غير المؤتم بلفظ البسملة سرا في أول كل ركعة ولو جهرية
وفي الشامية: (قوله سراً في أول كل ركعة) كذا في بعض النسخ وسقط سراً من بعضها ولابد منه، قال في الكفاية عن المجتبى: والثالث أنه لا يجهر بها في الصلاة عندنا. (الدر المختار مع الشامي: ۱/٤۹۰، سعيد)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
نماز کے اندر حنفیہ کے نزدیک بالاتفاق بسم اللہ کو سراً پڑھنا چاہیے، اس میں حنفیہ میں سے کسی کا اختلاف نہیں ہے اور اطلاقِ نماز شامل ہے نماز فرض اور نفل و تراویح وغیرہ کو اور یہ بھی اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ اتباعِ امام من القراء خارجِ صلاۃ میں ہے نہ صلاۃ میں اور اس پر ہم نے اپنے اساتذہ علمائے احناف کو پایا ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٤/
۲
٦٤،
۲٦٥
مدلل و مکمل)
نیز ملاحظہ ہو: و فتاوی رحیمیہ: ٤/
۳۸۰
باب التراویح ۔ مجموعہ رسائل الکھنوی (أحکام القنطرۃ فی أحکام البسملۃ): ۱/۱۷، ادارۃ القرآن ۔ و فتاوی محمودیہ: ۷/۲۹۹، ۳۰۱، جامعہ فاروقیہ ۔ و امداد الفتاوی: ۱/۲۲۸، ۲۳۰، فصل فی التجوید ۔ و امداد الاحکام : ۱/٦۳۰، فصل فی التراویح ۔
علامہ عبد الحی لکھنوی رحمه الله فرماتے ہیں:
قد صرحوا أن ختم القرآن بجميع أجزاء ه في التراويح مرة سنة مؤكدة حتى لوترك آية منه لم يخرج عن العهدة، وقد ثبت أن البسملة أيضاً آية منه على الأصح، فيستخرج منه أنه لو قرأ تمام القرآن في التراويح ولم يقرأ البسملة في ابتداء سورة من السور سوي ما في سورة النمل لم يخرج عن عهدة السنية ولو قرأها الإمام سراً خرج عن العهدة لكن لم يخرج المقتدون عن العهدة. (مجموعة رسائل اللكنوي: "أحكام القنطرة في أحكام البسملة": ۱/۱۰۳، إمدادية)
نیز ملاحظہ ہو: امداد المفتین: جلد دوم ص
۳٦۱
فصل فی التراویح، دار الاشاعت ۔ و فتاوی محمودیہ:
۷/۳۰۰
، باب التراویح، جامعہ فاروقیہ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/664
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-664