کثرتِ فوائت کی وجہ سے سننِ رواتب کی جگہ قضاء فوائت کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #323Urdu

Question

ایک شخص کے ذمہ بہت زیادہ قضا نمازیں ہیں جن کا پڑھنا بے حد دشوار ہے اگر وہ بجائے سنتوں کے قضا نماز پڑھ لیا کرے تو اس کی گنجائش ہے یا نہیں؟

Answer

قضائے فوائت کی اہمیت اگر چہ زیادہ ہے تب بھی فقہاء نے سننِ رواتب کا ادا کرنا ضروری قرار دیا ہے لہذا صورتِ مسئولہ میں فرائض کے بعد سنتیں پڑھے اور نفل کی جگہ فوائت پڑھ لے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

الاشتغال بقضاء الفوائت أولى وأهم من النوافل إلا السنن المفروضة. (شامي: ۲/۷٤، سعيد. وكذا في الهندية: ۱/۱۲٥. وكذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ۲٤۳، قديمي)

احسن الفتاوی میں ہے:
قضاء نمازیں پڑھنے کے لیے سنتِ مؤکدہ اور تراویح نہ چھوڑیں بلکہ حضراتِ فقہاء نوافلِ ماثورہ مثل چاشت، اوابین اور صلاۃ التسبیح وغیرہ کو بھی قضا پر مقدم فرماتے ہیں مگر یہ اس صورت میں معلوم ہوتا ہے کہ اسبابِ ظاہرہ کے پیشِ نظر موت سے قبل نمازوں سے سبکدوشی کی توقع ہو اگر قضا نمازیں بہت زیادہ ہیں اور عمر کم نظر آ رہی ہے تو اصولاً نوافل پر قضا کو ترجیح دینا لازم ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۱۹)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
وقتیہ سننِ مؤکدہ کو نہ چھوڑنا چاہیے اور فوائت کو اوقاتِ فارغہ میں ادا کرنا چاہیے اور یہ ظاہر ہے کہ قضاءِ فوائت اہم ہے لیکن اگر دونوں کام ہو سکیں کہ فوائت بھی پڑھے اور سننِ مؤکدہ کو بھی نہ چھوڑے تو یہ بہتر ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٤/۳٤٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.