سورۂ فاتحہ کی کسی ایک آیت کے تکرار سے سجدۂ سہو کا حکم:

1 min readFatwa Vol 2 #329Urdu

Question

اگر کسی نے کسی وجہ سے سورۃ فاتحہ کی کسی ایک آیت کا تکرار نماز میں کر لیا تو کیا سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

سورۃ فاتحہ کے کسی ایک آیت کے تکرار سے نماز صحیح ہے سجدہ سہو واجب نہیں، ہاں اکثر فاتحہ کی تکرار موجب سجدۂ سہو ہے، اس قول میں آسانی ہے لہذا ایک آیت کی تکرار سے سجدۂ سہو واجب نہ ہونا چاہیے ۔ ملاحظہ ہو رد المحتار میں ہے:

(قوله وكذا ترك تكريرها) فلو قرأها في ركعة من الأوليين مرتين وجب سجود السهو لتأخير الواجب وهو السورة كما في الذخيرة وغيرها، وكذا لو قرأ أكثرها ثم أعادها كما في الظهيرية. (رد المحتار: ۱/٤٦۰، سعيد)

البحر الرائق میں ہے:

ولو قرأ الفاتحة مرتين يجب عليه السجود لتأخير السورة كذا في الذخيرة وغيرها

وقراءة أكثر الفاتحة ثم إعادتها كقراءتها مرتين كما في الظهيرية. (البحر الرائق: ۲/۹٤، كوئٹه)

عمدۃ الفقہ میں مذکور ہے:
اگر فرض کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ ملانے سے پہلے سورۂ فاتحہ دو بارہ پڑھے یا دوسری دفعہ آدھی سے زیادہ پڑھ لے تو سجدہ سہو واجب ہوگا ۔ (عمدۃ الفقه: ۲/۳٦٤، مجددیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.