کرسی پر نماز پڑھنے والے کے لیے میز سامنے رکھنا ضروری نہیں ہے:

4 min readFatwa Vol 2 #366Urdu

Question

معذور آدمی کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو اور سامنے میز رکھ کر سجدہ کر سکتا ہو تو میز پر سجدہ ضروری ہے یا نہیں؟ بعض مفتی حضرات فرماتے ہیں کہ میز رکھنا ضروری ہے ۔ مثلاً ملاحظہ ہو: فتاوی بینات: ۲/۳۹۰ ۔ و احسن الفتاوی: ٤/۵٤ ۔

Answer

معذور آدمی جب کرسی پر نماز پڑھتا ہو تو سامنے میز رکھنا ضروری نہیں ہے وجہ یہ ہے کہ سجدہ کے تحقق کے لیے پیشانی، دونوں ہاتھوں میں سے ایک، دونوں گھٹنوں میں سے ایک اور پاؤں کی انگلیوں میں ایک انگلی کا زمین پر رکھنا ضروری ہے، اگر چہ تھوڑی دیر کے لیے ہو اس کے بغیر سجدہ متحقق نہ ہوگا اور کرسی میز پر سجدہ کرنے میں یہ چیزیں نہیں ہو سکتی لہذا معذور آدمی رکوع، سجدہ اشارہ سے کرے میز رکھنا ضروری نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو امداد الفتاح میں ہے:

والسجدة إنما تتحقق بوضع الجبهة والأنف مع وضع إحدى اليدين وإحدى الركبتين وشيء من أطراف أصابع إحدى القدمين على ظاهر من الأرض، فإن لم يوجد وضع هذه الأعضاء لا تتحقق السجدة

وإلى ذلك أشار في الفتاوى الصغرى حيث قال: وضع القدمين على الأرض حالة السجود فرض فإن وضع أحدهما دون الأخرى يجوز

(إمداد الفتاح: ص ۲٥٦، بيروت)

در مختار میں ہے:

ومنها السجود بجبهته وقدميه ووضع أصبع واحدة منهما شرط، وفي الشامي: وأفاد أنه لو لم يضع شيئاً من القدمين لم يصح السجود وهو مقتضي ما قدمناه آنفاً عن البحر. (الدر المختار مع الشامي: ۱/٤٤۷، بحث الركوع والسجود، سعيد. وكذا في حاشية الطحاوي على الدر المختار: ۱/۲۲۱)

نیز احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے سواری پر نماز پڑھی تو آپ ﷺ نے سجدہ کے لیے اشارہ فرمایا جب کہ پالان پر پیشانی رکھنا ممکن تھا اس کے باوجود آپ علیہ الصلاۃ و السلام نے اشارہ سے سجدہ فرمایا تو میز کا سامنے ہونا اور پالان کا ہونا دونوں برابر ہے ۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

كان عبد الله بن دينار يصلي في السفر على راحلته أينما توجّهت به يؤمي، وذكر عبد الله أن النبي ﷺ كان يفعله.
عن عامر بن ربيعة رضي الله عنه قال: رأيت رسول الله ﷺ وهو على الراحلة يسبح يؤمي برأسه قبل أي وجه توجه، ولم يكن رسول الله ﷺ يصنع ذلك في الصلاة المكتوبة. (بخاري شريف: ۱/۱٤۸)

مذکورہ بالا حدیث پر اگر کوئی اشکال کرے کہ یہ تو نفل کا واقعہ ہے نہ کہ فرض نماز کا، تو جواب یہ ہے کہ نفل نماز میں قدرت علی القیام کے باوجود قعود جائز ہے لیکن پھر بھی سجدہ پر قدرت ہو تو لیٹ کر اشارہ سے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو در المختار میں ہے:

ويتنفل مع قدرته على القيام قاعداً لا مضطجعاً إلا بعذر. وفي الشامية: قوله لا مضطجعاً

وكذا لو شرع منحنياً قريباً من الركوع لا يصح، بحر، وما ذكر من عدم صحة التنفل مضطجعاً عندنا بدون عذر، نقله في البحر عن الأكمل في شرحه على المشارق. وصرّح به في النتف، وقال الكمال في الفتح: لا أعلم الجواز في مذهبنا وإنما يسوغ في الفرض حالة العجز عن القعود. (الدر مع الشامي: ۲/۳٦، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.