آبادی بڑھنے کی وجہ سے دو بستیاں متصل ہو جانے پر سفرِ شرعی کی ابتداء کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #373Urdu

Question

آج کل بعض جگہوں پر آبادی کے بڑھنے کی وجہ سے دو بستیاں متصل ہو جاتی ہیں تو اس حالت میں سفر کا اعتبار کہاں سے ہوگا؟ کیا اپنی بستی سے یا دوسری متصل بستی سے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں دوسری بستی اگر چہ متصل ہے لیکن دونوں کے نام علیحدہ ہیں اور دونوں کی حدود بھی الگ الگ مقرر ہیں تو دونوں مستقل آبادیاں شمار ہوں گی اور سفرِ شرعی کا اعتبار اس وقت ہوگا جب کہ اپنی آبادی سے تجاوز کرے، اور اگر اس طور پر اتصال ہو چکا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک کر دیا ہو اور دوسری بستی پہلی کے لیے بطور محلہ استعمال ہوتی ہو تو یہ شہر کا جز ہے لہذا اب اس سے تجاوز کرنے پر سفرِ شرعی کے احکام جاری ہوں گے ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

من خرج من عمارة موضع إقامته من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر. وفي الشامي: ويشترط مفارقة ما كان من توابع موضع الإقامة كربض المصر وهو ما حول المدينة من بيوت ومساكن فإنه في حكم المصر وكذا القري المتصلة بالربض في الصحيح بخلاف البساتين ولو متصلة بالبناء لا نها ليست من البلدة ولو سكنها أهل البلدة في جميع السنة. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۱۲۱، باب صلاة المسافر، سعيد).
وكذا في الهداية: ۱/۱٦٦. والبحر الرائق: ۲/۱۲۸. وحاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ص ٤۲۳، باب صلاة المسافر، قديمي. والفتاوى الهندية: ۱/۱۳۹. وشرح منية المصلي: ص٥۳٦. والفقه الإسلامي وأدلته: ۳۲٤، دار الفكر)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:
وطنِ اصلی یا وطنِ اقامت کی آبادی سے باہر ہو جانے پر شرعی مسافر کا اطلاق ہوگا، دوسری آبادی اگر چہ متصل ہو مگر دوسری آبادی ہے، دونوں کے نام الگ ہیں حکومت اور کارپوریشن یعنی (میونسپلٹی ۔ نگرپالیکا) نے دونوں آبادیوں کے حدود الگ الگ مقرر کیے ہیں، اس لیے وہ دونوں دو مستقل آبادیاں (یعنی شہر) شمار ہوں گی، اور شرعی مسافر کا اطلاق اس وقت ہوگا جب کہ اپنی آبادی یعنی شہر کے حدود تجاوز کرے، اور اگر متصل ہونے کی وجہ سے کارپوریشن نے دونوں کو ایک کر دیا ہو تو اب وہ آبادی شہر کا محلہ ہے اور وہ محلہ شہر کا جز ہے لہذا اب اس سے تجاوز ہونے پر مسافرت کے احکام جاری ہوں گے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ٦/
۳
٦٤ ۔ و احسن الفتاوی: ٤/
۷
٤ ۔ و فتاوی دار العلوم دیوبند: ٤/
٤۷۲
، مدلل و مکمل، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.