جائے اقامت پر پاک ہو کر نماز پڑھنے کا حکم:
Question
ایک عورت حالتِ حیض میں جوبرگ سے ڈربن جا رہی ہے، پیٹرمیریزبرگ پہنچ کر پاک ہوئی۔ اب ڈربن تک وہ نماز کا اتمام کرے گی، کیوں کہ وہاں سے ڈربن ٦۰ کلو میٹر ہے، یہ مسئلہ تو معلوم ہے اور فتاوی دار العلوم زکریا میں مرقوم ہے۔ اب ایک اور مسئلہ معلوم کرنا ہے کہ اگر ڈربن پہنچنے تک اس عورت کا حیض جاری رہا اور ڈربن میں ۱٦ دن کا قیام ہے، اور وہ عورت ڈربن پہنچنے کے ٦ دن بعد پاک ہو گئی تو اب بقیہ دس دن میں وہ مقیم کی طرح ہے یا مسافر کی طرح؟ یعنی قصر کرے گی یا اتمام؟
Answer
حالتِ حیض میں سفر کا اعتبار نہیں، لہذا بصورتِ مسئولہ مذکورہ عورت جب ڈربن پہنچنے کے ٦ دن بعد پاک ہوئی تو وہ مقیم کی طرح ہو گی، یعنی بقیہ دس ایام میں پوری نماز ادا کرے گی، البتہ جوبرگ کی طرف واپسی میں قصر کرے گی۔ ملاحظہ ہو شرح منیۃ المصلی میں ہے:
والحائض إذا طهرت وقد بقي بينها وبين مقصدها أقل من ثلاثة أيام تتم الصلاة هو الصحيح ذكره في الظهيرية. (شرح منية المصلي، ص: ٥٤۲، سهيل).
حاشية الطحطاوي
میں ہے:
طهرت الحائض وبقي لمقصدها يومان تتم في الصحيح، كأنه لسقوط الصلاة عنها فيما مضي لم يعتبر حكم السفر فيه فلما تأهلت للأداء اعتبر من وقته. (الدر المختار مع حاشية الطحطاوي: ۱/۳۳۷، كوئته).
فتاوی شامی میں ہے:
قال في الشرنبلالية: ولا يخفى أن الحائض لا تنزل عن رتبة الذي أسلم فكان حقها القصر مثله. وأجاب في نهج النجاة: بأن مانعها سماوي بخلافه أي وإن كان كل منهما من أهل النية بخلاف الصبي لكن منعها من الصلاة ما ليس بصنعها فلغت نيتها من الأول بخلاف الكافر فإنه قادر على إزالة المانع من الابتداء فصحت نيته. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۱۳٥، سعيد).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
حیض کی حالت میں شرعی حد کی مسافرت میں نکلی جہاں جا کر حیض منقطع ہو گیا اگر وہاں ٹھہر جائے یا اس سے آگے تین منزل سے کم اور جانا ہو تو دونوں صورت میں مسافر نہیں پوری نماز پڑھے۔ (فتاوی محمودیہ:
۷/٥۰۲
، جامعہ فاروقیہ)۔
احسن الفتاوی میں ہے:
خواہ ادا پڑھے یا قضا بہر صورت اس پر پوری نماز فرض ہے۔
قال في العلائية: طهرت الحائض وبقي لمقصدها يومان تتم في الصحيح
یہ حکم جب ہے کہ ابتداء سفر سے حائضہ ہو اگر حالتِ طہارت میں سفر کی ابتداء ہوئی ہو تو حیض ختم ہونے کے بعد بھی قصر ہی پڑھے گی،
كما يفهم من قول ابن عابدين: لكن منعها من الصلاة ما ليس بصنعها فلغت نيتها من الأول. (
احسن الفتاوی: ٤/
۸۷
) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (عمدۃ الفقہ:
۲/٤۱
٤)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/738
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-738