شوہر کے لیے سسرال میں قصر کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 2 #388Urdu

Question

اگر شوہر سسرال چلا جائے اور بیوی اپنے میکے والدین کے ہاں جائے تو قصر کریں گے یا اتمام؟

Answer

شوہر نے شادی کے بعد اسی شہر میں مستقل سکونت اختیار کر لی تو اب یہ ان کے حق میں وطنِ اصلی شمار ہوگا۔ اور یہاں اتمام کریں گے۔ اگر خود شوہر تو اس شہر میں نہیں رہتا مگر بیوی وغیرہ کی مستقل سکونت وہیں ہو تو بھی یہ شخص اتمام کرے گا، اور اگر شادی کے بعد رخصتی ہو گئی اور شوہر بیوی کسی دوسرے شہر میں رہتے ہیں تو اب اگر شوہر سسرال جائے اور بیوی میکے جائے تو اگر پندرہ دن سے کم کی نیت ہو تو قصر کریں گے۔ اور صحیح قول یہی ہے کہ محض شادی کرنے سے اتمام کا حکم عائد نہیں ہوگا جب تک اس کو وطن نہ بنا لے۔
ملاحظہ ہو فتاوی قاضی خان میں ہے:

إذا جاوز عمران مصره

إن كان ذلك وطناً أصلياً بأن كان مولده وسكن فيه أو لم يكن مولده ولكنه تأهل به وجعله داراً. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/۱٦٥، باب صلاة المسافر. وكذا في خلاصة الفتاوى: ۱/۱۹۸، رشيديه).

بعض حضرات فرماتے ہیں کہ محض شادی کرنے سے ہی سسرال وطنِ اصلی بن جائے گا اور آدمی وہاں مقیم ہوگا۔ اور حضرت عثمان رضي الله عنه کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں:
حدیث ملاحظہ ہو مسند احمد میں ہے:

حدثنا أبو سعيد يعني مولي بني هاشم حدثنا عكرمة بن إبراهيم الباهلي حدثنا عبد الله بن عبد الرحمٰن بن أبي ذباب عن أبيه أن عثمان بن عفان رضي الله عنه صلى بمني أربع ركعات فأنكره الناس عليه فقال: يا أيها الناس إني تأهلت بمكة منذ قدمت وإني سمعت رسول الله ﷺ يقول: من تأهل في بلد فليصل صلاة المقيم

(مسند أحمد: ۱/۳٥۱).

اس روایت کا جواب یہ ہے کہ دیگر بعض عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضي الله عنه کے بعض اہل مکہ میں رہتے تھے اس وجہ سے آپ رضي الله عنه نے اتمام فرمایا۔
ملاحظہ ہو کفایہ شرح ہدایہ میں ہے:

ولو كان له أهل ببلدة فاستحدث في بلدة أخري أهلاً آخر كان كل واحد منهما وطناً أصلياً له روي أنه كان لعثمان رضي الله عنه أهل بمكة وأهل بالمدينة وكان يتم الصلاة بهما جميعاً. (كفاية شرح هداية: ۲/۱۷).

محض شادی کرنا اتمام کے لیے کافی ہوتا تو نبی پاک ﷺ نے بھی مکہ مکرمہ میں شادی فرمائی تھی اس کے باوجود آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر قصر فرمایا تھا۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

قال حدثني يحيى بن أبي إسحاق سمعت أنساً رضي الله عنه يقول: خرجنا مع النبي ﷺ من المدينة إلى مكة فكان يصلي ركعتين ركعتين حتى رجعنا إلى المدينة قلت: أقمتم بمكة شيء قال: أقمنا بها عشراً. (رواه البخاري: ۱/۱٤۷).

کفایہ میں ہے:

ألا تري أن مكة كانت وطناً أصلياً لرسول الله ﷺ ثم لما هاجر منها إلى المدينة بأهله وتوطن ثمة انتقض وطنه بمكة حتى قال عليه الصلاة والسلام عام حجة الوداع أتموا صلاتكم يا أهل مكة فإنا قوم سفر. (الكفاية: ۲/۱۷).

حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله رقم طراز ہیں:
کسی شہر میں محض نکاح کر لینے سے وہ وطنِ اصلی نہیں ہو جاتا، بلکہ اہل کا وہاں رکھنا اور وہاں سے منتقل نہ کرنا شرط ہے اور حضرت عثمان رضي الله عنه کے قصہ میں بھی ان کے اتمام کا سبب محض تزوج نہ تھا، بلکہ اہل کا وہاں تزوج کے بعد مکہ میں رکھنا سبب تھا ۔ (امداد الاحکام:
۱/٦۹
٦) ۔
نیز اس حدیث پر محدثین نے جرح کی ہے ۔
ملاحظہ ہو حافظ ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں:

فهذا الحديث لا يصح لأنه منقطع وفي رواته من لا يحتج به. (فتح الباري: ۲/٥۷۰، باب يقصر إذا خرج من موضعه).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.