نماز ِ عیدین کے بعد اجتماعی دعا کرنے کا حکم:
Question
نماز عیدین کے بعد اجتماعی دعا کا کیا حکم ہے؟ بعض لوگ خطبہ کے بعد کرتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟
Answer
نماز کے بعد دعا کا ثبوت بکثرت احادیث میں موجود ہے جس کا تذکرہ پہلے گذر چکا لہذا صورتِ مسئولہ میں نماز ِ عیدین کے بعد اجتماعی دعا کرنا درست اور صحیح ہے، لیکن خطبہ کے بعد دعا کرنے کا ثبوت نہیں ملتا، لہذا نماز کے بعد دعا کرنے پر اکتفاء کرنا چاہیے ۔ ملاحظہ ہو امداد الاحکام میں ہے:
مناجات بعد صلاۃ العید کے بارے میں روایات دستیاب ہو گئیں،
وهي هذه: عن أم عطية رضي الله تعالى عنها قالت: كنا نؤمر أن نخرج يوم العيد حتى تخرج البكر من خدرها حتى تخرج الحيض فيكن خلف الناس فيكبرن بتكبيرهم ويدعون بدعائهم يرجون بركة ذلك اليوم وطهرته، أخرج البخاري في صحيحه كذا في فتح الباري: ص ۳۸٦ ج ۲. وأخرج الترمذي عن أم عطية رضي الله تعالى عنها أن رسول الله ﷺ كان يخرج الأبكار والعواتق وذوات الخدر والحيض في العيدين فأما الحيض فيعتزلن المصلي ويشهدن دعوة المسلمين، الحديث ص: ۷۰، وقال الترمذي رحمه الله: حديث ام عطية حديث حسن صحيح.
اس حدیث میں دعا سے دعائے خطبہ مراد نہیں ہو سکتی، کیوں کہ خطبہ میں صرف امام دعا
كرتا ہ
ے، سامعین دعا نہیں کر سکتے، اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حائض عورتیں عیدین میں مردوں کے پیچھے کھڑی رہتیں، اور مردوں کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہتیں، اور ان کی دعا کے ساتھ دعا کرتیں، اور اس سے مردوں اور عورتوں سب کا دعا کرنا ثابت ہوتا ہے، اور یقیناً نماز سے پہلے تکبیر و دعا کا وقت نہیں، یقیناً نماز کے بعد ہی دعا کی جاتی تھی، اور ترمذی میں اسی حدیث کے اندر یہ الفاظ ہیں ویشہدن دعوۃ المسلمین، کہ عورتیں مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوتی تھیں، اس لیے عیدین کی نماز کے بعد دعا کرنا جائز و مستحب یقیناً ہے، استحباب و جواز کا انکار نہیں ہو سکتا ۔ (امداد الاحکام: ۱/۷٤۲، فصل فی الجمعہ و العیدین، دار العلوم کراچی)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
نماز ِ عید کے بعد دعاء کریں، بعد خطبہ دعاء کرنا بے اصل ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۸/٤٦٤، مبوب و مرتب، جامعہ فاروقیہ)
مزید ملاحظہ ہو: احسن الفتاوی: ٤/۱۱۵ ۔ و امداد الفتاوی: ۱/٤۰۷ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/801
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-801