عیدین کے موقع پر مبارک بادی دینا:
Question
عید کے موقع پر مبارک بادی دینے کا ثبوت احادیث و خیر القرون سے ہے یا نہیں؟
Answer
عیدین کے موقع پر تقبل اللہ منا و منک کہنا آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت ہے ۔ عام لوگ اس کی جگہ عید مبارک کہتے ہیں وہ بھی درست ہے، اس لیے کہ جب اللہ تعالی کسی چیز کو قبول فرماتے ہیں تو اس کو بڑھاتے ہیں اور اس میں برکت دیتے ہیں قرآنِ کریم میں ہے:
﴿فتقبلها ربها بقبول حسن وأنبتها نباتاً حسناً﴾
قبولیت کے ساتھ برکت لازم ہے ۔ ملاحظہ ہو سنن کبری میں ہے:
عن خالد بن معدان قال: لقيت واثلة بن الأسقع رضي الله عنه في يوم عيد فقلت: تقبل الله منا ومنك فقال: نعم تقبل الله منا ومنك، قال واثلة رضي الله عنه لقيت رسول الله ﷺ يوم عيد فقلت: تقبل الله منا ومنك قال: نعم تقبل الله منا ومنك. عن أدهم مولى عمر بن عبد العزيز رحمه الله قال كنا نقول لعمر بن عبد العزيز في العيدين تقبل الله منا ومنك يا أمير المؤمنين فيرد علينا ولا ينكر ذلك على نا. (السنن الكبرى للبيهقي: ۳/۳۱۹. وكذا في مجمع الزوائد: ۲/۲۰٦)
الجوہر النقی میں ہے:
قلت: في هذا الباب حديث جيد اغفله البيهقي وهو حديث محمد بن زياد قال: كنت مع أبي أمامة الباهلي رضي الله عنه وغيره من اصحاب النبي ﷺ فكانوا إذا رجعوا يقول بعضهم لبعض تقبل الله منا ومنك قال أحمد بن حنبل رحمه الله إسناده جيد. (الجوهر النقي على هامش السنن الكبرى: ۳/۳۱۹)
نیز کتبِ فقہ سے بھی اس کے استحباب کا ثبوت ملتا ہے ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
وندب
إظهار البشاشة وإكثار الصدقة والتختم والتهنية بتقبل الله منا ومنكم لا تنكر. وفي الشامي: وإنما قال كذلك لأنه لم يحفظ فيها شيء عن أبي حنيفة رحمه الله وأصحابه رحمه الله
وقال المحقق ابن أمير حاج: بل الأشبه أنها جائزة مستحبة في الجملة ثم ساق آثاراً بأسانيد صحيحة عن الصحابة رضي الله تعالى عنهم في فعل ذلك ثم قال: والتعامل في البلاد الشامية والمصرية "عيد مبارك على ك" ونحوه وقال يمكن ان يلحق بذلك في المشروعية والاستحباب لما بينهما من التلازم فإن من قبلت طاعته في زمان كان ذلك الزمان عليه مباركاً على انه قد ورد الدعاء بالبركة في امور شتي فيؤخذ منه استحباب الدعاء بها هنا أيضاً. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۱٦۹، صلاة العيدين، سعيد. وكذا في شرح منية المصلي: ٥۷۳، سهيل).
عید مبارک کے بارے میں اشاعۃ التوحید کے ایک عالم مولانا خان بادشاہ صاحب کی تحقیق:
عیدین کے موقع پر عید مبارک کہنے کو بہت سے علمائے کرام نے جائز تسلیم کیا ہے ۔ بہتر یہ ہے کہ ہم اشاعت التوحید کے ایک عالم کی تحقیق پیش کریں، اشاعت التوحید بدعات کے رد میں تشدد کی حد تک مشہور ہے ۔ اس جماعت کے ایک محقق عالمِ دین مولانا خان بادشاہ صاحب اپنی کتاب
"الإرشاد المفيد لعلماء جماعة التوحيد"
میں تحریر فرماتے ہیں:
ترکمانی فرماتے ہیں کہ اس باب تہنۂ عید میں حدیث ہے جس کو امام بیہقی نے بھلا دیا ہے، اور وہ محمد بن زیاد کی حدیث ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں ابو امامہ باہلی وغیرہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے ساتھ تھا، جب وہ واپس نماز عید سے آ جاتے تو ایک دوسرے کو فرماتے کہ اللہ تعالی ہم سے اور تم سے قبول فرمائے ۔ اور امام احمد بن حنبل رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد جید اور کھری ہے ۔
اور طبرانی کی روایات بھی مطالعہ کریں ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ: عید کے دن عید مبارک کہ ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ اللہ تعالی ہم سے اور تم سے قبول فرمائے ۔ یہ صحابہ کی جماعت سے مروی ہے اور ائمہ نے رخصت فرمائی ہے، جیسے امام احمد وغیرہ ۔ امام ابن قدامہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام ابن عقیل رحمه الله نے عید مبارک کے لیے احادیث ذکر کی ہیں، پھر حدیثِ محمد بن زیاد ذکر کی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں ابو امامہ باہلی وغیرہ اصحابِ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا تو یہ جب واپس آ جاتے تو ایک دوسرے کو فرماتے کہ اللہ تعالی ہم اور تم سے قبول فرمائے، اور احمد کہتے ہیں اس کی اسناد کھری ہے ۔ اور حضرت انس بن مالک رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ یہ عمل مدینہ میں ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے، اور سید سابق فرماتے ہیں کہ عید کے دن عید مبارک مستحب ہے، پھر فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے ۔
میں نے بھائیوں کے لیے یہ ذکر کیا، کیوں کہ یہ عید مبارک اور مصافحہ پر بدعت کے فتوے لگائے ہیں ۔ (
الإرشاد المفيد لعلماء جماعة التوحيد،
ص: ۱۰۵ ۔ ۱۰٦، از مولانا خان بادشاہ صاحب) ۔
درج کردہ مولانا خان بادشاہ صاحب کی عبارت میں جن علماء کے حوالے مذکور ہیں، اصل کتاب سے ان کی عبارات ملاحظہ فرمائیں ۔
(۱) علامہ ترکمانی کی عبارت پہلے گزر چکی ہے ۔
(۲) فتوي العلامة ابن تيمية: وسئل رحمه الله تعالى: هل التهنئة في العيد وما يجري على ألسنة الناس "عيدُك مبارك" وما أشبهه هل له أصل في الشريعة أم لا؟
فأجاب: أما التهنئة يوم العيد يقول بعضهم لبعض إذا لقيه بعد صلاة العيد: تقبل الله منا ومنكم
قد روي عن طائفة من الصحابة أنهم كانوا يفعلونه ورخص فيه الأئمة كأحمد وغيره. (مجموع الفتاوى: ۲٤/۲٥۳، والفتاوى الكبرى: ۲/۳۷۱).
ابن قدامہ رحمه الله کی عبارت ملاحظہ ہو :
فصل: قال أحمد: ولا بأس أن يقول الرجل للرجل يوم العيد: تقبل الله منا ومنكم
لم يزل يعرف هذا بالمدينة. (المغني: ٤/۲۷٤).
شیخ سید سابق کا کلام ملاحظہ ہو:
استحباب التهنئة بالعيد: عن جبير بن نفير قال: كان أصحاب رسول الله ﷺ
إلى قوله: قال الحافظ: إسناده حسن. (فقه السنة: ۱/۳۲٥).
ایک اشکال اور جواب:
اشکال: بعض حضرات اشکال کرتے ہیں کہ عید کے دن عید مبارک کہنا بدعت ہے اس لیے کہ ثابت نہیں ہے اس کا کیا جواب ہے؟
الجواب: خوشی کے موقع پر مبارک باد دینا احادیث سے ثابت ہے، اور کسی چیز کے ثبوت کے لیے یہ ضروری نہیں کہ احادیث میں اس نام بھی بالتعیین وارد ہو بلکہ عموماتِ حدیث سے بھی احکام بکثرت ثابت کیے جاتے ہیں، اگر عمومات سے حکم ثابت نہ ہو س کے تو پھر دنیا کی بہت سی چیزوں کا جواز و استحباب ثابت نہ ہو س کے گا۔ لہذا عمومی احادیث جو خوشی و مسرت کے موقع پر وارد ہیں ان کے پیشِ نظر عیدین کے موقع پر بھی مبارک باد دینا یعنی عید مبارک کہنا جائز اور درست ہو گا جب کہ اس کو ضروری یا مسنون نہ سمجھے ہاں اگر رسم بن گئی ہو جیسے عام لوگ اس کو بہت اہمیت دیتے ہیں تو پھر نہ کہنا مناسب ہے ۔
خوشی کے وقت مبارک باد دینے کی چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:
(۱) شادی جو کہ خوشی کا وقت ہے
"بارك الله لك وبارك عليك وجمع بينكما في خير"
کہنا ثابت ہے ۔
ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي ﷺ كان إذا رفأ الإنسان إذا تزوج قال: "بارك الله وبارك عليك وجمع بينكما في خير". (رواه الترمذي: ۱/۲۰۷، باب ما جاء للمتزوج. والبخاري: ۲/۷۷٤/ ٤۹٦۱، باب كيف يدعي للمتزوج)
(۲) حضرت جریر بن عبد اللہ رضي الله عنه نے جب ذی الخلصہ کے بتکدہ کو توڑا تو آنحضور ﷺ نے مبارک باد دی اور دعا فرمائی ۔
قال: "اللهم بارك لا حمس في خيلها ورجالها". (مجمع الزوائد: ۲/۲۸۹، باب سجود الشكر، دار الفكر. والمعجم الكبير للطبراني: ۲/٤٥۲/۲۲٤۷، حديث جرير)
(۳)
بچے کی پیدائش کے وقت مبارک باد دینا ثابت ہے ۔ ملاحظہ ہو :
عن السري بن يحيي أن رجلاً ممن كان يجالس الحسن رحمه الله ولد له ابن فهنأه رجل فقال: ليهنك الفارس، فقال الحسن رحمه الله: "وما يدريك أنه فارس لعله نجار لعله خياط" قال: فكيف أقول؟ قال: "قل جعله الله مباركاً عليك وعلى أمة محمد ﷺ". وعن عن حماد بن زيد قال: كان أيوب إذا هنأ رجلاً بمولود قال: "جعله الله مباركاً عليك وعلى أمة محمد ﷺ". (رواهما الطبراني في الدعاء: ۲/۲٤، ۲٥/۸۷۰، ۸۷۱، باب كيف التهنئة بالمولود)
(٤) حضرت کعب بن مالک رضي الله عنه کی توبہ قبول ہوئی تو حضرت طلحہ رضي الله عنه نے مبارک باد دی ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
عن عبد الله بن كعب بن مالك رضي الله عنه عن أبيه في حديث طويل
قال كعب رضي الله عنه حتى دخلت المسجد فإذا برسول الله ﷺ جالس حوله الناس فقام إلى طلحة بن عبيد الله رضي الله عنه يهرول حتى صافحني وهنّاني والله ما قام إلى من المهاجرين غيره
(رواه البخاري: ۲/٦۳٦)
(۵) ملا علی قاری رحمه الله نے ایک حدیث سے استدلال فرمایا کہ مبارک مہینوں کے شروع میں مبارک باد دینا درست ہے ۔ ملاحظہ ہو مرقات میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: أتاكم رمضان شهر مبارك
رواه أحمد والنسائي. قال الملا على القاري رحمه الله: (شهر مبارك) وظاهره الإخبار أي كثر خيره الحسي والمعنوي كما هو مشاهد فيه ويحتمل أن يكون دعاء أي جعله الله مباركاً علينا وعليكم وهو أصل في التهنئة المتعارفة في أول الشهور بالمباركة. (مرقاة المفاتيح: ٤/۲۳٥، كتاب الصوم، الفصل الثالث، مكتبة إمدادية ملتان)
(٦) عیدین میں
"تقبل الله منا ومنك"
کا ثبوت موجود ہے اور تقبل کے معنی قبول کرنا جب اللہ تعالی قبول کر لیتے ہیں تو ایک حسنہ کا ثواب بڑھا دیتے ہیں اور برکت میں بھی نمو کا معنی پایا جاتا ہے، لہذا مبارک بادی تقبل اللہ میں ضمناً شامل ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ عیدین کے موقعہ پر عید مبارک کہنا درست ہے جب کہ سنت اور ضروری نہ سمجھا جائے، اور کہنے والے کو مبتدع کہنا بھی درست نہیں، اور نہ کہنے والے پر کوئی نکیر بھی نہ کرے لیکن چونکہ اس نے ایک رسم کی شکل اختیار کر لی ہے لہذا اس کا نہ کہنا مناسب ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/805
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-805