نماز سے قبل شلوار موڑنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #473Urdu

Question

اگر کسی شخص کی ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکی ہوئی ہے تو نماز سے پہلے اس کو موڑنا چاہیے یا نہیں؟
بعض لوگ کہتے ہیں کہ کپڑے کو موڑنا نہیں چاہیے اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہیے کیوں کہ موڑنے کی صورت میں کپڑا الٹا ہو جاتا ہے اور یہ ممنوع ہے کیا یہ بات صحیح ہے؟

Answer

جو چیز نماز سے باہر مکروہ ہے نماز میں بطریق اولیٰ مکروہ ہے اور کراہت کا ازالہ نماز سے قبل کرنا چاہیے لہذا اس طرح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہاں اصل یہ ہے کہ ان لوگوں کو سمجھا دیں کہ یہ فعل خارج الصلاۃ بھی مکروہ ہے لہذا پاجامہ اور شلوار ٹخنوں سے اوپر سلوا لیا کریں۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: "ما أسفل من الكعبين من الإزار في النار". (رواه البخاري: ۲/۸٦۱/٥٥٥۹، باب ما أسفل من الكعبين فهو في النار، فيصل)

نماز میں کپڑا لٹکانا مکروہ ہے لہذا فقہاء نے فرمایا کہ نماز سے قبل ٹھیک کر لے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی لکھنوی میں ہے:

ويكره السدل وهو أن يرسله من غير أن يضم جانبه وقيل: هو أن يلقيه على رأسه ويرخيه

قال في فتح القدير: (۱/۳٥۹) يصدق على ما إذا كان المنديل مرسلاً في كتفيه كما يعتاده كثير فينبغي لمن يعتاده أن يضعه عند الصلاة. (فتاوى اللكنوي: ۳۰۱، بيروت)

نیز فقہاء فرماتے ہیں کہ کراہت کا ازالہ نماز میں بھی جائز ہے تو خارج الصلاۃ بدرجۂ اولیٰ جائز بلکہ مستحب ہوگا۔
ملاحظہ ہو فتاوی لکھنوی میں ہے:

فان سقطت قلنسوة من رأسه وأمكنه أن يرفعها بيد واحدة، الأولى أن لا يصلي مكشوف الرأس كذا في خزانة الروايات. (فتاوى اللكنوي: ۳۰۱، بيروت)

نیز حدیث شریف میں ہے:
حضرت عبد اللہ بن عباس رضي الله عنه فرماتے ہیں ایک مرتبہ رات کی نماز میں حضور ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہو ا تو آپ عليه الصلاۃ و السلام نے مجھے داہنی طرف کر دیا یعنی نماز میں کراہت کا ازالہ فرمایا ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن ابن عباس رضي الله عنه قال

فتوضأ ثم قام يصلي فقمت عن يساره فأخذني فجعلني عن يمينه. (بخاري شريف: ۱/۹۷).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.