مکان کا کرایہ کئی سالوں سے ادا نہیں کیا تو اس پر زکوٰۃ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #76Urdu

Question

کرایہ پر دیے ہوے مکان کا کرایہ کئی سالوں سے وصول نہیں ہوا قرض چلا آ رہا ہے تو مکان کے مالک پر اس کی زکوٰۃ ہے یا نہیں نیز وصول ہونے کے بعد گذشتہ کی زکوٰۃ ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں کرایہ کی رقم پر قبضہ کرنے سے پہلے زکوٰۃ نہیں ہے اور وصول کرنے کے بعد سال گزرنے پر صرف اسی سال کی واجب ہو گی گذشتہ سالوں کی بھی لازم نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

ولو آجر عبد ه أو داره بنصاب إن لم يكونا للتجارة لا تجب ما لم يحل الحول بعد القبض. (البحر الرائق: ۲/۲۰۸، كوئٹه).

شامی میں ہے:

لكن قال في البدائع أن رواية ابن سماعة أنه لا زكاة فيه حتى يقبض المائتين ويحول الحول من وقت القبض هي الأصح من الروايتين عن أبي حنيفة رحمه الله، ومثله في غاية البيان. (شامي: ۲/۳۰٦، باب زكاة المال، سعيد).

جدید فقہی مسائل میں ہے:
تاہم دینِ قوی و اوسط کی تعریف پر نظر کی جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ فقہاء کی ان عبارتوں میں اجرت سے غلام ہی کی اجرت مراد ہے ۔ اس لئے کہ دین کی ان دونوں قسموں میں دین کے لئے مال کا عوض ہونا بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور ظاہر ہے کہ غلام ہی کی خدمت حنفیہ کے یہاں مال کے درجہ میں ہے، اس طرح آزاد کی اجرت دینِ ضعیف قرار پاتی ہے، جس پر ملازمین کو ملکیت تو حاصل ہے "ید" و قبضہ حاصل نہیں ہے، لہذا اس رقم پر گزرے ہوے دنوں کی زکوٰۃ واجب نہیں ہونی چاہیے، علماء ہند میں مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله اور مفتی جمیل احمد صاحب رحمه الله نے بھی اسی کو ترجیح دیا ہے کہ اس رقم میں گزشتہ ایام کی زکوٰۃ واجب نہ ہو گی ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۲۱٦، نعیمیہ)
جدید فقہی مباحث میں ہے:
فقہاء کرام کی ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ ملک تام کے لئے ملکیت اور قبضہ و تصرف دونوں کا ہونا ضروری ہے، ملک تام کو دوسرے لفظوں میں ملک مطلق اور ملک کامل بھی کہتے ہیں، چنانچہ بدائع الصنائع میں ملک مطلق کی شرح وہی کی گئی ہے جو ابھی اوپر ملک تام کی گزری کہ مالک کو شیٔ پر ملکیت اور قبضہ و تصرف دونوں حاصل ہو، بدائع الصنائع کی عبارت یہ ہے:

"منها الملك المطلق وهو أن يكون مملوكاً له رقبة ويداً". بدائع: ۲/۹، شامي: ۲/٤
۔ (جدید فقہی مباحث: ۷/۵۳۵، ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیہ) ۔
دوسری جگہ ہے:
فرضیت زکوٰۃ کے لئے مال پر مالک کی ملکیت تام ہونا ضروری ہے اگر مالک کو مال پر ملکیت تام حاصل ہے تو اس صورت میں مالک پر اس مال میں زکوٰۃ فرض ہے ورنہ نہیں ۔ فتاوی عالمگیری: ۱/۱۷۲، شامی: ۱/۵ ۔ (جدید فقہی مباحث: ۷/۵۳٦، ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیہ) ۔
مزید ملاحظہ ہو: احسن الفتاوی: ٤/۲٦۱ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.