قسط وار زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #104Urdu

Question

اگر کوئی شخص زکوٰۃ کی رقم یک مشت ادا کرنے کے بجائے ماہ بماہ قسط وار ادا کرنا چاہتا ہے تو اس طرح ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں زکوٰۃ کی رقم قسط وار ادا کرنا بھی درست اور صحیح ہے، اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

وشرط صحة أدائها نية مقارنة له أي للأداء ولو حكماً أو مقارنة بعزل ما وجب كله أو بعضه. (الدر المختار: ۲/۲۷۰، سعيد).

کتاب الفتاوی میں ہے:
زکوٰۃ کی ادائیگی میں شریعت نے بڑی آسانی رکھی ہے، نصاب پر سال گزرنے پہلے بھی زکوٰۃ ادا کی جا سکتی ہے، سال گزرنے کے بعد بھی مہلت ہے کہ حسبِ مواقع و حالات تاخیر سے ادا کر سکتا ہے، البتہ کوشش کرنی چاہیے کہ حتی المقدور جلد سے جلد زکوٰۃ ادا کر دے، اسی طرح زکوٰۃ یک مشت بھی دی جا سکتی ہے، اور قسطوں میں بھی، لہذا ماہانہ ایک سو روپے کے لحاظ سے زکوٰۃ ادا کرنا بھی کافی ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ۳/۳۲۳، زمزم) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
کل رقم کا فوراً رمضان میں صرف کرنا ضروری نہیں بلکہ تھوڑی تھوڑی کر کے ادا کرنے سے بھی زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/٤٦۷، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.