پیداوار کا عشر ادا کرنے کے بعد اس کی قیمت پر زکوٰۃ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #246Urdu

Question

ایک آدمی نے ربیع الثانی میں اپنی فصل کا عشر شریعت کے مطابق ادا کیا پھر بعد میں فصل کو تین لاکھ روپے میں فروخت کر دیا، پھر رمضان المبارک میں زکوٰۃ ادا کرتے وقت اس تین لاکھ روپے کی زکوٰۃ ادا کرنی ہو گی یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

ایک مرتبہ فصل کا عشر ادا کرنے کے بعد اب نہ اس پر دوسری مرتبہ عشر واجب ہے اور نہ زکوٰۃ واجب ہے، ہاں فروخت کرنے کے بعد اس کی رقم کو دوسرے نصاب کے ساتھ ملا کر سال گزرنے پر زکوٰۃ ادا کرنی ہو گی، لہٰذا شخص مذکور رمضان المبارک میں دیگر اموال کی زکوٰۃ ادا کرتے وقت تین لاکھ روپے کی بھی زکوٰۃ ادا کرے گا ۔ ملاحظہ ہو الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

قوله ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالاً من جنسه ضمه إلى ماله وزكاه، سواء كان المستفاد من نمائه أو لا وبأي وجه استفاده ضمه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك وشرط كونه من جنسه. (الجوهرة النيرة: ۱/۱۲۰، ط: الخيرية). (وكذا في بدائع الصنائع: ۲/۱٤، والفتاوى الهندية: ۱/۱۷۵، وتبيين الحقائق: ۱/۲۷۲، إمداديه، وفتح القدير: ۲/۱۹۵، دار الفكر).

احسن الفتاوی میں مذکور ہے:
پیداوار کا عشر الگ فرض ہے اور پیداوار فروخت کی تو اس سے حاصل ہونے والی رقم پر زکوٰۃ الگ فرض ہے
لأن الحقين لم يتعلقا بمحل واحد فإن العشر حق الأرض النامية بالخارج حقيقة وزكاة النقود حق المال النامي تقديراً

قال ابن نجيم رحمه الله في زكاة مال التجارة إذا دخل من أرضه حنطة تبلغ قيمتها قيمة نصاب ونوى أن يمسكها ويبيعها فأمسكها حولاً لا تجب فيها الزكاة. (البحر الرائق: ۲/۲۰۹)،
عبارتِ مذکورہ میں عدمِ وجوبِ زکوٰۃ کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ حنطہ مالِ تجارت نہیں، اس سے ثابت ہوا کہ بیع حنطہ کی صورت میں نقود پر زکوٰۃ فرض ہو گی،
لأنها متعينة للتجارة خلقة. (
احسن الفتاوی: ٤/۳٦۰) ۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
ایک بار عشر ادا کر دینے کے بعد جب تک اس کو فروخت نہیں کیا جاتا اس پر نہ عشر ہے، نہ زکوٰۃ اور جب عشر ادا کر دینے کے بعد فصل فروخت کر دی تو اس سے حاصل شدہ رقم پر زکوٰۃ اس وقت واجب ہو گی جب اس پر سال گزر جائے گا یا اگر یہ شخص پہلے سے صاحب نصاب ہے تو جب اس کے نصاب پر سال پورا ہو گا تو اس وقت اس رقم کی بھی زکوٰۃ ادا کرے گا ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۵/۱۸۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.