مالدار شخص کی چھوٹی بچی کو زکوٰۃ دینے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #136Urdu

Question

ایک مالدار صاحبِ نصاب شخص کی چھوٹی (دو ماہ کی) بچی کے قلب میں سوراخ ہونے کی وجہ سے داخلِ ہسپتال ہے، اور اس شخص کی اتنی حیثیت نہیں کہ اس کا خرچ برداشت کر سکے، تو کیا اس بچی کے ہسپتال کے بل وغیرہ کے لئے اس کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں مالدار صاحبِ نصاب شخص کی بچی کو زکوٰۃ کی رقم دینا درست نہیں ہے، البتہ اس کی والدہ کو دے دیا جائے غالباً والدہ صاحبِ نصاب نہیں ہو گی، اور اگر اس کی ملکیت میں کچھ زیورات ہوں تو شوہر کو ہبہ کر دے اور زکوٰۃ لے کر اپنی بچی پر خرچ کر لے، یا اس کے پاس موجود رقم کو بچی پر خرچ کر کے پھر زکوٰۃ لے ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

وأما ولد الغني فإن كان صغيراً لم يجز الدفع إليه وإن كان فقيراً لا مال له، لأن الولد الصغير يعد غنياً بغني أبيه وإن كان كبيراً فقيراً يجوز، لأنه لا يعد غنياً بمال أبيه فكان كالأجنبي ولو دفع إلى امرأة فقيرة وزوجها غني جاز
۔
(بدائع الصنائع: ۲/٤۷، سعيد
۔
وكذا في الفتاوى الهندية: ۱/۱۸۹، المصارف)
۔
فتاوی دار العلوم میں ہے:
غنی کی محتاج اولاد صغار کو زکوٰۃ وغیرہ صدقاتِ واجبہ دینا درست نہیں ہے اس سے زکوٰۃ ادا نہ ہو گی ۔ (فتاوی دار العلوم: ۶/۲۱۲، مصارفِ زکوٰۃ، مدلل و مکمل) ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.