ٹی وی (T.V) کے مالک کو زکوٰۃ دینے کا حکم:
Question
ایک شخص اصطلاحی طور پر غریب ہے لیکن اس کے پاس ٹی وی (T.V) ہے اور عمومی سطح پر زندگی گزارتا ہے نیز اس کے پاس ضرورت سے زائد بہت سی اشیاء پڑی ہیں، کیا ایسا شخص مستحق زکوٰۃ ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ اگر اس کے پاس پرانی ٹی وی (T.V) ہے جو کہ بہت کم قیمت کی ہوتی ہے تو اس کے ہوتے ہوئے آدمی مالدار اور صاحبِ نصاب نہیں کہلاتا، ہاں اگر ٹی وی (T.V) کے ساتھ اور بھی ضرورت سے زائد چیزیں ہوں اور بقدرِ نصاب ہوں تو پھر وہ صاحبِ نصاب ہے، لیکن اس کے گھر کے دوسرے افراد تو مستحق زکوٰۃ ہوں گے ان کو دے دے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
ولا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلاً عن حاجته الأصلية وهي مسكنه وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه ومركبه وسلاحه
ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب وإن كان صحيحاً مكسباً كذا في الزاهدي. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۸۹).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1046
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1046