زمین جاگیر کے مالک کو زکوٰۃ کی رقم دینے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 9 #251Urdu

Question

کسی کے پاس زمینیں ہیں، وہ تجارت کے لیے نہیں ہیں، لیکن ان کی قیمت نصاب سے زیادہ ہے، اس شخص کے پاس ان زمینوں کے علاوہ کوئی اور مال نہیں ہے، ان زمینوں کی دو صورتیں ہیں: ۱ ۔ ایک وہ زمینیں جن کی کوئی آمدنی نہیں مل سکتی یعنی کوئی اس کو کرایہ پر لینے کے لیے تیار نہیں ہے، ۲ ۔ وہ زمینیں جن کی آمدنی مل سکتی ہے لیکن مالک نے بے پرواہی کی وجہ سے کوئی توجہ نہیں دی ۔ کیا یہ شخص زکوٰۃ لے سکتا ہے؟ یا وہ غنی شمار ہوگا؟ کیا اس پر صدقۃ الفطر اور قربانی واجب ہے یا نہیں؟ فتاوی کی کتابوں میں صاحب ضیعہ کے بارے میں مختلف باتیں ملتی ہیں، لہٰذا تشفی بخش، مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔

Answer

شخص مذکور پر واجب ہے کہ زمینوں کو آمدنی پر لگائے، اور اس آمدنی سے اپنا گزر بسر کرے، یا پھر فروخت کر کے اپنی حاجات پوری کرے لیکن دونوں میں سے کوئی صورت نہیں بنتی اور فی الحال گزارے کے لیے کچھ نہیں ہے تو زکوٰۃ لینے کی اجازت ہے، اور جب مستحق زکوٰۃ ٹھہرا تو صدقہ فطر اور قربانی اس پر واجب نہیں ہو گی ۔ ہاں جب زمینیں فروخت کر کے نقدی حاصل کر لے گا تو پھر زکوٰۃ اور صدقہ فطر نہیں لے سکتا، بلکہ صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے حولانِ حول کے بعد اس پر زکوٰۃ واجب ہو گی ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں مذکور ہے:

قوله فارغ عن حاجته، قال في البدائع قدر الحاجة هو ما ذكره الكرخي رحمه الله في مختصره لا بأس أن يعطي من الزكاة من له مسكن وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم إن كان من أهله فإن كان له فضل عن ذلك تبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة لما روي عن الحسن البصري قال: كانوا يعني الصحابة يعطون من الزكاة لمن يملك عشرة آلاف درهم من السلاح والفرس والدار والخدم وهذا لأن هذه الأشياء من الحوائج اللازمة التي لا بد للإنسان منها.
وذكر في الفتاوى فيمن له حوانيت ودور للغلة لكن غلتها لا تكفيه وعياله أنه فقير ويحل له أخذ الصدقة عند محمد وعند أبي يوسف رحمه الله لا يحل

وفي التاتارخانية عن التهذيب أنه الصحيح وفيها عن الصغرى له دار يسكنها لكن تزيد على حاجته بأن لا يسكن الكل يحل له أخذ الصدقة في الصحيح وفيها سئل محمد عمن له أرض يزرعها أو حانوت يستغلها أو دار غلتها ثلاثة آلاف ولا تكفي لنفقته ونفقة عياله سنة يحل له أخذ الزكاة وإن كانت قيمتها تبلغ ألوفاً وعليه الفتوى وعندهما لا يحل. (فتاوى الشامي: ۲/۳٤۷، سعيد).

فتاوی عالمگیری میں ہے:

ولو كان له ضيعة تساوي ثلاثة آلاف ولا تخرج ما يكفي له ولعياله اختلفوا فيه قال محمد بن مقاتل: يجوز له أخذ الزكاة. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۸۹).

بدائع الصنائع میں مذکور ہے:

ومنها (أي شرائط وجوب صدقة الفطر) الغنى فلا يجب الأداء إلا على الغني وهذا عندنا. (بدائع الصنائع: ۲/٦۹، سعيد).
ومنها (شرائط وجوب الأضحية) الغنى لما روي عن رسول الله ﷺ أنه قال: من وجد سعة فليضح، شرط عليه الصلاة والسلام السعة وهي الغنى ولأنا أوجبناها بمطلق المال، ومن الجائز أن يستغرق الواجب جميع ماله فيؤدي إلى الحرج فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون ديناراً أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر وقد ذكرناه وما يتصل به من المسائل في صدقة الفطر. (بدائع الصنائع: ۵/٦٤).

امداد الاحکام میں مذکور ہے:
بکر مفلس خستہ حال عیال دار ہے مگر اس کے نام ایک موضع ویران شدہ میں اراضی زرعی ہزار بیگہ ہے جو کہ موضع ویران ہو جانے سے محض بیکار پڑی ہے کچھ آمدنی نہیں البتہ فروخت کرے تو کئی ہزار مل سکتے ہیں ؟
الجواب: صورتِ مسئولہ میں اس شخص کو زکوٰۃ دینا جائز ہے مگر جس کے پاس اُفتادہ زمین ہے اس کے لیے لازم ہے کہ اس کے فروخت کرنے کی کوشش کرے، اور جب تک خریدار نہ پیدا ہو زکوٰۃ کا مال لے سکتا ہے ۔ (امداد الاحکام: ۲/٤۵، ط: دار العلوم کرچی) ۔
فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
سوال: ایک شخص کی بہت سی زمین ہے مگر وہ آباد نہیں تو اس شخص کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے یا نہیں؟
جواب: جب کہ ان زمینوں سے اس کی حوائج پوری نہیں ہوتیں اور وہ مالِ نامی بھی نہیں تو اس کو زکوٰۃ دینا درست ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/۵۷۲، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.