کرایہ پر دی ہوئی زمین پر زکوٰۃ کا حکم:
Question
اگر کسی نے زمین کرایہ پر دی ہے تو زکوٰۃ کس پر واجب ہو گی؟
Answer
زمین کے کرایہ کی آمدنی بقدرِ نصاب ہو کر اس پر سال گزر جائے تب زمین کے مالک پر زکوٰۃ لازم ہو گی اس آمدنی پر ورنہ نہیں ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
ولا زكاة على مكاتب
ولا ثياب البدن وأثاث المنزل ودور السكني ونحوها وكذا الكتب. قال الشامي: ونحوها أي كثياب البدن الغير المحتاج إليها وكالحوانيت والعقارات. (الدر مع الشامي: ۲/۲۶۴، ۲٦۵، سعيد).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
جائداد کی قیمت پر زکوۃ لازم نہ ہو گی بلکہ کرایہ کی آمدنی پر جو نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے، اور اس پر تنہا یا دیگر رقومِ موجود ہ کے ساتھ سال پورا ہو جائے زکوٰۃ لازم ہو گی ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۱۳۳) ۔
آپ کے مسائل میں ہے:
میرے پاس دو مکان ہیں، ایک میں میں خود رہائش پذیر ہوں اور دوسرا کرایہ پر، تو آیا زکوٰۃ مکان کی مالیت پر ہے یا اس کے کرایہ پر؟
جواب: اس صورت میں زکوٰۃ مکان کی قیمت پر واجب نہیں، البتہ اس کے کرایہ پر جب کہ نصاب کو پہنچے تو زکوٰۃ ہو گی ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۳/۳۷۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/971
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-971