اسلامی اسکول کے بچوں کی فیس زکوٰۃ کی رقم سے وصول کرنے کا حکم:
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام: کچھ دینی درد رکھنے والے حضرات اسلامی اسکول کھولنا چاہتے ہیں، اسکول میں نادار اور مالدار دونوں قسم کے لوگوں کے بچے تعلیم حاصل کریں گے، اسکول کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے بچوں سے فیس وصول کی جائے گی، کیا غریب بچوں کی فیس کی رقم میں زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟ اور کیا زکوٰۃ کے متعلق یہ بتلانا ضروری ہے کہ یہ زکوٰۃ ہے؟ کیا زکوٰۃ میں تملیک ضروری ہے؟ کیا بالغ نابالغ بچوں میں زکوٰۃ کی وصولی میں شرعاً فرق ہوگا؟ اگر کسی کے گھر میں ٹی وی یا وی سی آر ہو اور اس کی قیمت نصاب کو پہنچتی ہو تو وہ غنی شمار ہوگا یا نہیں؟
Answer
زکوٰۃ کی رقم شرعاً ان فقراء اور مساکین کو مالکانہ طور پر دینا ضروری ہے جو مالکِ نصاب نہ ہوں، نصاب کی مقدار ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا یا اس کی مقدار رقم یا ضرورت سے زائد سامان ہے، اسکول میں آنے والے بچے اگر بالغ ہوں اور وہ خود مالکِ نصاب نہ ہوں تو ان کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، اگر ان کے والد مالدار ہوں تو کوئی حرج نہیں، نیز زکوٰۃ میں یہ بتلانا بھی ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے، بلکہ زکوٰۃ عیدی، تحفے، وظیفے وغیرہ کے نام سے بھی دی جا سکتی ہے، ہاں زکوٰۃ میں فقیر کی تملیک ضروری ہے ۔
اسکول میں آنے والے بچے اگر نابالغ ہوں اور ان کے والد حضرات نادار ہوں صاحبِ نصاب نہ ہوں، تو ایسے بچوں کو بھی زکوٰۃ کی رقم جس عنوان سے بھی ہو دی جا سکتی ہے ۔ ہاں جن بچوں کے والد صاحبِ نصاب ہوں اور وہ بچے نابالغ ہوں ان بچوں کو زکوٰۃ شرعاً نہیں دی جا سکتی، جو بچے زکوٰۃ کے مستحق ہوں ان کو مالکانہ طور پر زکوٰۃ دے کر پھر یہی رقم ان سے بطور فیس وصول کی جا سکتی ہے، اگر کسی کے گھر پر ٹی وی یا وی سی آر ہو اور اس کی قیمت نصاب کو پہنچتی ہو تو وہ مستحق زکوٰۃ نہیں ہے، کیوں کہ یہ دونوں چیزیں ضرورت سے زائد ہیں، اور ان کی قیمت بقدر نصاب ہے، ہاں اگر ٹی وی اور وی سی آر بچوں کے والد کے نہ ہوں بلکہ والدہ کے ہوں تو والد کو نادار سمجھا جائے گا، اور اس کے وہ نابالغ بچے جو زکوٰۃ پر قبضہ کرنا جانتے ہوں مستحق زکوٰۃ ہوں گے ۔
اس مسئلہ کے دلائل اوپر والے مسئلہ میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1037
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1037