سحری کے وقت منہ میں پان رکھ کر سو جانے سے قضا اور کفارہ کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #209Urdu

Question

ایک شخص نے سحری کے وقت منہ میں پان رکھا اور سو گیا پھر طلوعِ فجر کے بعد اٹھا تو اس پر قضا اور کفارہ ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں روزہ فاسد ہو جائے گا اور صرف قضا واجب ہو گی اس لیے کہ کچھ نہ کچھ ذائقہ حلق میں گیا ہوگا، اور حالتِ نوم میں کھانے پینے سے صرف قضا ہے کفارہ لازم نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

وإن أفطر خطأ كان تمضمض فسبقه الماء أو شرب نائماً. (الدر المختار: ۲/ ٤۰۱، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، سعيد).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

النائم إذا شرب فسد صومه. (الفتاوى الهندية: ۱/ ۲۰۳).

مراقی الفلاح میں ہے:

باب ما يفسد الصوم ويوجب القضاء من غير كفارة

أو صب أحد في جوفه ماء وهو أي صائم نائم لوصول المفطر إلى جوفه كما لو شرب وهو نائم وليس كالناسي لأنه تؤكل ذبيحته وذاهب العقل والنائم لا تؤكل ذبيحتهما. (مراقي الفلاح: ص ۲٤۵، باب ما يفسد الصوم من غير كفارة).

امداد الفتاوی میں ہے:
اگر سوتے وقت پان منہ میں لے کر سوئے اور صبح تک منہ میں رہا، روزہ جاتا رہے گا ۔ (امداد الفتاوی: ۲/ ۲۰۳)
بہشتی زیور میں ہے:
منہ میں پان دبا کر سو گیا اور صبح ہو جانے کے بعد آنکھ کھلی تو روزہ نہیں ہوا قضا رکھے اور کفارہ واجب نہیں ۔ (بہشتی زیور: تیسرا حصہ: ۱۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.