اعتکافِ مسنون میں روزہ فاسد ہو جانے سے اعتکاف کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #232Urdu

Question

ایک شخص نے مسنون اعتکاف کیا ایک دن غلطی سے غروب آفتاب سے پہلے افطار کر لیا، یہ بات تو واضح ہے کہ روزہ کی قضا لازم ہے، لیکن اس دن کے اعتکاف کی قضا ہے یا نہیں؟

Answer

اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے، جب روزہ توڑ دے یا کسی وجہ سے ٹوٹ جائے تو اعتکاف بھی فاسد ہو جاتا ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں بھی اعتکاف فاسد ہو گیا اور اس دن کی قضا لازم ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

ومقتضي ذلك أن الصوم شرط أيضاً في الاعتكاف المسنون لأنه مقدر بالعشر الأخير حتى لو اعتكفه بلا صوم لمرض أو سفر ينبغي أن لا يصح عنه، بل يكون نفلاً فلا تحصل به إقامة سنة الكفاية. (الشامي: ۲/٤٤۲، باب الاعتكاف، سعيد).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وإذا فسد الاعتكاف الواجب وجب قضاؤه فإن كان اعتكاف شهر بعينه إذا أفطر يوماً يقضي ذلك اليوم

(الفتاوى الهندية: ۱/۲۱۳).

بدائع الصنائع میں ہے:

ولو أكل أو شرب في النهار عامداً فسد صومه وفسد اعتكافه لفساد الصوم. (بدائع الصنائع: ۲/۱۱٦، سعيد).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
عشرۂ اخیرہ کا اعتکاف سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے، اگر بغیر روزہ کے یہ اعتکاف کیا تو یہ اعتکاف مسنون نہیں ہوگا، بلکہ نفل بن جائے گا، البتہ اگر ایک دن روزہ نہ رکھا تو صرف ایک دن کے اعتکاف کی قضاء لازم ہو گی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۰/۲۲۰، مبوب و مرتب)۔
مزید ملاحظہ ہو: (احسن الفتاوی: ٤/۵۰۱۔ و فتاوی حقانیہ: ٤/۱۹٦)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.