متمتع عمرہ کرنے کے بعد مدینہ طیبہ چلا گیا پھر واپسی پر عمرہ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #298Urdu

Question

ایک آدمی حج کے لیے جاتا ہے اور حج تمتع کرتا ہے مکہ مکرمہ پہونچنے کے بعد عمرہ کرتا ہے اس کے بعد مدینہ طیبہ جاتا ہے تو یہ شخص مدینہ طیبہ سے واپس مکہ مکرمہ آتے ہوے دوبارہ عمرہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ یعنی یہ تمتع پر تمتع شمار ہوگا یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں مدینہ طیبہ سے واپسی پر دوسرا عمرہ کرنے کی گنجائش ہے اور تمتع پر تمتع بھی شمار نہیں ہوگا، البتہ صرف حج کا احرام باندھنا بہتر ہے ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
جس شخص نے اشہر حج میں عمرہ کر لیا ہے اس کے بعد مدینہ طیبہ میں حاضر ہوا، پھر اس سال حج کر کے وطن واپس ہوگا، امام صاحب کے نزدیک وہ شخص متمتع ہے، اس کو ایک عمرہ کر لینے کے بعد حج سے پہلے مدینہ سے چل کر عمرہ کرنے سے امام صاحب منع فرماتے ہیں، اور صاحبین کے نزدیک مدینہ طیبہ چلے جانے کی وجہ سے اس کا تمتع باطل ہو گیا، اب اگر دوبارہ وہ عمرہ کرے گا تو تمتع صحیح ہو جائے گا ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۰/۳۹۳، مبوب و مرتب) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
اگر کوئی آفاقی اشہر حج میں عمرہ کرنے کے بعد مدینہ منورہ یا جدہ وغیرہ چلا جائے تو واپسی کے وقت اس کے لیے حج افراد کا احرام باندھنا بہتر ہے، امام صاحب رحمه الله کے نزدیک وطن اصلی کے سوا کسی دوسرے مقام کی طرف سفر سے تمتع باطل نہیں ہوتا اور صاحبین رحمه الله کے نزدیک باطل ہو جاتا ہے، چونکہ پہلا عمرہ تمتع کا شمار نہ ہوا اس لیے اب نئے سرے سے تمتع یا قران جو بھی چاہے کر سکتا ہے، اور امام صاحب رحمه الله کے مذہب کے مطابق وہ بحکم مکی ہے اس لیے قران تو نہیں کر سکتا، البتہ اس کا تمتع کا عمرہ باقی ہے، اور اس کے بعد حج سے قبل دوسرے عمرہ کا جواز مختلف فیہ ہے، قول اعدل یہ ہے کہ آفاق ( بلکہ مکہ سے بھی جائز ہے) سے جائز ہے، اس لیے مدینہ طیبہ سے واپسی پر عمرہ کا احرام باندھنے میں چنداں حرج نہیں، مع ہذا اختلاف سے بچنے کے لیے صرف حج ہی کا احرام باندھنا بہتر ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٤/۵۱٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.