متمتع کے لیے حج کا احرام منی سے باندھنے کا حکم:
Question
ایک شخص نے حج تمتع کیا اور عمرہ کی تکمیل کے بعد ایامِ حج میں منی سے حج کا احرام باندھا اور حج کیا تومنی سے اس کا احرام صحیح ہوا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ شخص مذکور عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد مکہ میں مقیم ہونے کی وجہ سے اہل مکہ کے حکم میں ہے اور اہل مکہ کے لیے میقات پورا حرم ہے حج کے احرام کے لیے اور منی حرم شریف میں داخل ہے بنا بریں اس کا احرام صحیح ہے اور حج بھی صحیح ہو گیا، ہاں حج کا احرام مسجدِ حرام سے باندھنا افضل ہے ۔
ملاحظہ ہو شرحِ لباب المناسک میں ہے:
فصل في الصنف الثالث وهم من كان منزله في الحرم، كسكان مكة ومني فوقته الحرم للحج ومن المسجد أفضل أو من دويرة أهله
وكذلك أي مثل حكم أهل الحرم كل من دخل الحرم من غير أهله وإن لم ينو الإقامة به كالمفرد بالعمرة والمتمتع أي من أهل الآفاق والحلال أي وكغير المحرم من أهل الحل إذا دخله أي الحرم لحاجة أي غير إرادة للنسك. (لباب المناسك مع شرحه، ص۹۳).
عمدۃ الفقہ میں ہے:
اہل حرم سے مراد وہ لوگ ہیں جو حدودِ حرم کے اندر رہتے ہیں خواہ وہ وہاں کے مستقل باشندے ہوں یا دوسری جگہ سے آئے ہوں اور خواہ وہ مقیم ہوں یا مسافر، پس جو لوگ مکہ معظمہ میں یا حدودِ حرم میں کسی اور جگہ مثلاً منی وغیرہ میں رہتے ہوں حج کے لیے ان کا میقات حدودِ حرم کے اندر کی تمام سرزمین ہے اس میں جہاں سے چاہیں احرام باندھ لیں لیکن مسجد الحرام یعنی بیت اللہ شریف کی مسجد سے احرام باندھنا افضل ہے اس کے بعد ان کو اپنے گھروں سے احرام باندھنا افضل ہے حج تمتع کرنے والا آفاقی شخص بھی اہل حرم کے حکم میں ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/۹٦ ۔ ۹۸، اہل حرم کا میقات) ۔
اور منی مکہ مکرمہ سے تین ساڑھے تین میل ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/٤۳۸) ۔
زبدۃ المناسک میں ہے: منی مکہ معظمہ سے ایک فرسخ ہے ۔ (زبدہ، ص۱۵۵) ۔
اور ایک فرسخ تین شرعی میل کا ہوتا ہے جس کے تقریباً ٤۸٦٤ ء ۵ کلو میٹر بنتے ہیں ۔ اور منی حدودِ حرم میں داخل ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1432
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1432