حرم شریف سے عمرہ کا احرام باندھنے کا حکم:
Question
ایک شخص نے مکہ مکرمہ سے عمرہ کا احرام باندھا، کیوں کہ یہ شخص مکہ مکرمہ میں مقیم تھا، اس نے عمرہ مکمل کر لیا اور حلال بھی ہو گیا، اب اس کے ذمہ کیا واجب ہے؟ سنا ہے کہ اس کو حرم سے باہر جانا چاہیے تھا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ شخص مذکور پر لازم تھا کہ حرم سے باہر تنعیم یا کسی اور جگہ جا کر احرام باندھتا لیکن ایسا نہیں کیا اور عمرہ پورا کر لیا بنا بریں اس پر ایک دم واجب ہوا جو حرم کے ساتھ خاص ہے ۔
قال ابن الهمام في فتح القدير: وإذ أحرم المكي للعمرة من الحرم فعليه دم إن لم يعد إلى ميقاته على ما عرف. (فتح القدير: ۳/۱۱٤، دار الفكر).
(وكذا في البحر الرائق: ۳/۵۰، وفتاوى الشامي: ۲/٤۷۹، سعيد، وبدائع الصنائع: ۲/۱٦۷، سعيد).
عمدۃ الفقہ میں ہے:
پس مکہ مکرمہ یا حدودِ حرم کا رہنے والا شخص زمین حرم سے عمرہ کا احرام باندھے گا تو اس پر دم (قربانی) واجب ہوگا کیوں کہ اس نے اپنے میقات کو ترک کر دیا ہے حالانکہ وہ میقات بالاجماع ثابت ہیں ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/ ۹٦، اہل حرم کا میقات) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1428
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1428