حج میں نیت تبدیل کرنے کا حکم:

8 min readFatwa Vol 3 #516Urdu

Question

(الف) ایک شخص حج کے لیے آیا میقات سے اس نے قران کا احرام باندھا بعد میں مکہ مکرمہ پہنچ کر معلوم ہوا کہ اس کے ساتھیوں نے تمتع کا احرام باندھا ہے تو اس نے طواف شروع کرنے سے پہلے تمتع کی نیت کر لی، اب اس کا کیا حکم ہے؟ (ب) اسی طرح ایک شخص نے تمتع کا حرام باندھا اور عمرہ کا طواف کرنے سے پہلے قران کی نیت کر لی تو درست ہے یا نہیں؟ (ج) نیز آفاقی قران یا تمتع کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد افراد کی نیت کر سکتا ہے یا نہیں؟ (د) نیز افراد کی نیت سے احرام باندھ کر قران یا تمتع کرنا کیسا ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

حج قران کی نیت کرنے کے بعد تمتع یا افراد کی نیت کرنا کسی صورت میں بھی درست نہیں ہے خواہ طوافِ عمرہ شروع کرنے سے پہلے نیت کرے یا بعد میں ۔
(الف) صورتِ مسئولہ میں قارن نے تمتع کی نیت کر لی اور عمرہ کے بعد حلق کر لیا تو اس پر دو دم واجب ہو گئے پھر بھی حج کے احرام سے نہیں نکلا پھر اگر ایامِ حج شروع ہونے پر حج کا احرام باندھا تو دو حج کا احرام ہوا اور افعال شروع کرنے سے ایک حج چھوٹ گیا، بنا بریں رفضِ حج کی وجہ سے تیسرا دم لازم ہوا اور آئندہ سال ایک حج اور عمرہ کی قضا لازم ہو گی ۔
بشرطیکہ حج قران کے احرام کے دوران حلق کرانے کے بعد دیگر جنایات کا مرتکب نہ ہوا ہو ۔
شرح اللباب میں ملا علی قاری رحمه الله فرماتے ہیں:

وهذه أفعال العمرة بكمالها إلا أنه ممنوع من التحلل عنها لكونه محرماً بالحج معها فيتوقف تحلله على فراغه من أفعاله أيضاً

ثم يقيم حراماً أي محرماً لأن أو ان تحلله يوم النحر، فإن حلق يكون جنايته على إحرامين لما في المحيط والمنتقي عن محمد، فإن طاف لعمرته ثم حلق فعليه دمان، ولا يحل من عمرته بالحلق. (شرح اللباب، ص۲۸۹، فصل في بيان اداء القران، ط: بيروت).
قال في الدر المختار: فلو حلق لا يحل من عمرته ولزمه دمان. وفي الشامية: قوله بلا حلق، لأنه وإن أتي بأفعال العمرة بكمالها إلا أنه ممنوع من التحلل عنها لكونه محرماً بالحج

قوله ولزمه دمان لجنايته على إحرامين، بحر وهو الظاهر. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۵۳۲، باب القران، سعيد).
وقال في شرح اللباب: فعليه ثلاثة دم للرفض فإنه يرفض إحداهما، ويمضي في الأخرى، ويقضي حجة وعمرة مكان التي رفضها. (شرح اللباب، ص۳۲۲).

زبدۃ المناسک میں ہے:
مسئلہ: پھر جب طواف کرے تو اول طواف عمرہ کا کرے رمل اضطباع کے ساتھ پھر سعی عمرہ کی کرے اور حلق نہ کرے کہ احرامِ حج میں ہے، اگر حلق کر بھی لیا تو بھی حلال نہ ہوگا اور (اس حلق کرنے کی وجہ سے) دو دم جنایت اور دو دم احرام کے دینے واجب ہوں گے ۔ (زبدۃ المناسک، ص۲۹۳، قران کا بیان) ۔
(ب) بصورتِ مسئولہ تمتع کی نیت سے آنے والے شخص نے طوافِ عمرہ کے اکثر چکر لگانے سے پہلے قران کی نیت کر لی تو اس کا قران صحیح ہو گیا، ہاں عمرہ کا طواف مکمل کرنے یا اکثر چکر لگانے کے بعد قران کی نیت درست نہیں ہو گی ۔ ملاحظہ ہو ملا علی قاری رحمه الله شرحِ لباب میں فرماتے ہیں:

فصل في شرائط صحة القران، الأول أن يحرم بالحج قبل طواف العمرة كله أو أكثره وهو أربعة أشواط صحيحة فلو أحرم به بعد أكثر طوافها لم يكن قارناً أي شرعياً وإن كان قارناً لغوياً. (شرح اللباب، ص۲۸۵، ط: بيروت).

عمدۃ الفقہ میں حضرت مولانا سید زوار حسین صاحب رقم طراز ہیں:
حج قران کے لیے پانچ شرطیں ہیں؛ (۱) عمرہ کا پورا یا اکثر طواف یعنی چار پھیرے کرنے سے پہلے حج کا احرام باندھ لینا پس اگر طوافِ عمرہ کا اکثر حصہ یعنی چار پھیرے کرنے کے بعد حج کا احرام باندھا تو وہ شخص شرعی طریقے پر قارن نہیں ہوگا بلکہ متمتع ہو جائے گا جب کہ اس نے عمرہ کا اکثر طواف حج کے مہینوں میں کیا ۔ (عمدۃ الفقہ: ٤/۲٦۱) ۔
(ج) بصورتِ مسئولہ حج قران یا حج تمتع کی نیت سے احرام باندھنے کے بعد حج افراد کی کوئی شکل باقی نہیں رہتی، کیوں کہ عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد رفض احرام درست نہیں ہے ۔

قال في شرح اللباب: لا يجوز فسخ العمرة بجعلها حجاً عند الثلاثة أي من الأئمة أو الأربعة أي جميعهم بناء على أن المسألة فيها روايتان عن الإمام أحمد، والله أعلم. (شرح اللباب، ص۳۲۹).

علامہ سرخسی رحمه الله مبسوط میں فرماتے ہیں:

والإفراد بالحج أن يحج أولاً ثم يعتمر بعد الفراغ من الحج أو يؤدي كل نسك في سفر على حدة أو يكون أداء العمرة في غير أشهر الحج. (المبسوط: ٤/٤٤، ط: دار الفكر).

(د) افراد کی نیت سے احرام باندھنے کے بعد تمتع ممکن نہیں ہے کیوں کہ تمتع کے لیے ضروری ہے کہ اشہر حج میں پہلے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کیا جائے، اس کے بعد حج کا احرام باندھے، اور مذکورہ صورت میں پہلے حج کا احرام باندھ چکا ہے اب اس کو فسخ کرنا درست نہیں ہے ۔

كما في شرح اللباب: ولا يجوز ولا يصح فسخ إحرام الحج إلى العمرة عند الثلاثة أي عندنا وعند مالك رحمه الله والشافعي رحمه الله خلافاً لا حمد رحمه الله

وهو أن يفسخ نية الحج بعد ما أحرم به ويقطع أفعاله ويجعل إحرامه وأفعاله للعمرة. (شرح اللباب، ص۳۲۹).

ہاں افراد کی نیت سے احرام باندھنے کے بعد طوافِ قدوم سے پہلے قران کرنا درست ہے، البتہ ایسا کرنا برا ہے کیوں کہ قارن کے لیے سنت یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھے یا عمرہ کا احرام حج پر مقدم کرے ۔ ملاحظہ ہو شرح اللباب میں ہے:

ومع الإساءة إذا أحرم بأحدهما لأنه يسن أن يحرم بهما منه (ولا تقديم إحرام العمرة على الحج) أي على إحرامه (فإن قدمه عليه قبل طواف القدوم يصير قارناً مسيئاً) أي لمخالفته السنة فيكره فعله لأن السنة تقديم إحرام العمرة على الحج (وعليه دم الشكر) أي اتفاقاً لأنه في الجملة جمع بين العبادتين ولو مع الإساءة (وإن كان) أي أدخلها عليه (بعد الشروع فيه) أي بعد شروعه في طواف القدوم (و لو شوطاً فهو أكثر إساءة من الأول) أي لأنه أخره غاية التأخير حتى أدخلها بعد شروعه في أفعال حجه (و عليه) أي مع هذا (دم شكر) عند شمس الأئمة فيأكل منه (وقيل: جبر) وهو قول صاحب الهداية، وفخر الإسلام فلا يأكل منه. (شرح اللباب، ص۲۸۷). (وكذا في غنية الناسك، ص۱۰۸، باب القران).
مزید ملاحظہ کیجیے: (علمی مکاتیب، ص۱۷۷ ۔ ۱۸۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.